پاکستان کی فشریز اور سی فوڈ برآمدات میں رواں مالی سال کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں سالانہ برآمدی ہدف مالی سال ختم ہونے سے تقریباً ڈیڑھ ماہ پہلے ہی حاصل کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی فشریز برآمدات 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ جون میں مالی سال کے اختتام تک مجموعی سی فوڈ برآمدات 80 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں یہ برآمدات تقریباً 40 کروڑ ڈالر رہی تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ چین بدستور پاکستان کی سب سے بڑی سی فوڈ مارکیٹ رہا، جبکہ تھائی لینڈ، جاپان اور یورپی یونین کو بھی پاکستانی مچھلی کی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور وسط ایشیائی ممالک میں بھی پاکستانی سی فوڈ کی طلب بڑھی ہے۔
نئے بجٹ میں عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی تیاری
وزارت بحری امور کے مطابق جولائی سے دسمبر کے دوران فشریز برآمدات میں 21.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں منجمد مچھلی کو پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی کیٹیگری قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق برآمدات میں اضافے کی بڑی وجوہات میں عالمی منڈی میں طلب میں اضافہ، معیار میں بہتری اور نئی منڈیوں تک رسائی شامل ہیں، جس سے ملکی معیشت کو بھی مثبت سہارا مل رہا ہے۔
