پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر اسمبلیوں سے استعفوں کے آپشن پر غور کر رہی ہے۔
ان کے مطابق پارٹی کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہ ملنے اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔
نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں شفیع جان نے کہا کہ پارٹی قیادت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا موجودہ سیاسی نظام میں رہ کر اپنا کردار جاری رکھا جائے یا احتجاجاً اسمبلیوں سے علیحدگی اختیار کی جائے۔ ان کے مطابق یہ بات ابھی ابتدائی غور و فکر کے مرحلے میں ہے اور حتمی فیصلہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی کرے گی۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ گلگت بلتستان میں دیگر سیاسی جماعتوں کو آزادانہ انتخابی مہم کی اجازت حاصل ہے، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو مبینہ طور پر انتخابی سرگرمیوں سے روکا گیا اور بعض افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔ شفیع جان نے کہا کہ اس صورتحال نے پارٹی میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ سیاسی میدان محدود کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنماؤں اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر سمیت دیگر قائدین کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، جس کے بعد استعفوں یا بائیکاٹ جیسے آپشنز پر سنجیدہ غور شروع ہوا ہے۔
اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی رہنماؤں کو انتخابی مہم سے روکنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے اور اسے “پری پول دھاندلی” کے مترادف سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر سیاسی جماعت کو منظم طور پر انتخابی عمل سے دور رکھا گیا تو یہ جمہوری نظام پر سوال اٹھائے گا۔
بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کی سیاسی تنہائی ختم نہ کی گئی تو پارٹی کو اسمبلیوں اور سینیٹ سے علیحدگی سمیت دیگر سخت فیصلوں پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
