ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان الزامات کے تبادلے کے بعد جیو نیوز کے پروگرام میں رانا ثنا اللہ سے پوچھے گئے سوال پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ انہوں نے الزامات کی تحقیقات کا معاملہ متعلقہ فورم پر چھوڑنے کی بات کی۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان الزامات کا تبادلہ
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے جانے کے بعد سیاسی ماحول میں کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اسی معاملے پر جیو نیوز کے پروگرام میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اس پر سخت ردعمل دیا۔
پروگرام کے دوران جیو نیوز کے اینکر پرسن شہزاد اقبال نے رانا ثنا اللہ سے استفسار کیا کہ پیپلز پارٹی پر لگایا جانے والا کرپشن کا الزام سنجیدہ نوعیت کا ہے یا محض ایک سیاسی بیان۔ اس سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس معاملے پر ان سے سوال کرنے کا حق نہیں بنتا کیونکہ یہ معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہے۔
رانا ثنا اللہ کا میڈیا سے متعلق تبصرہ
گفتگو کے دوران رانا ثنا اللہ نے میڈیا کے کردار پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی تربیت اس انداز میں ہوئی ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو منفی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ان کے اس بیان پر میزبان نے مزید سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ذمہ دار وزیر یہ الزام عائد کرے کہ پاکستان کے 3,000 ارب روپے کرپشن کے ذریعے دبئی منتقل کیے گئے ہیں تو کیا میڈیا کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اس بارے میں سوال کرے؟
عظمیٰ بخاری کا پیپلز پارٹی پر ردعمل: “الفاظ کا چناؤ درست کریں، بڑوں کی عزت کرنا سیکھیں”
الزامات کی تحقیقات پر مؤقف
اس سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر اس معاملے کی باقاعدہ انکوائری ہوتی ہے تو متعلقہ افراد اس کا جواب دیں گے۔ انہوں نے مزید کوئی تفصیل بیان نہیں کی اور نہ ہی الزامات کے حق میں کوئی اضافی شواہد پیش کیے۔
سیاسی بیانات اور تحقیقات کی اہمیت
پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات اکثر سیاسی بحث کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔ تاہم کسی بھی الزام کی حقیقت جانچنے کے لیے متعلقہ تحقیقاتی اداروں کی کارروائی اور شواہد کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
تاحال مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان زیرِ بحث الزامات کے حوالے سے کسی تحقیقاتی ادارے کی حتمی رپورٹ یا عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ان دعوؤں کی حقیقت کا تعین متعلقہ قانونی اور تحقیقاتی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
