امریکا اور ایران مذاکرات میں پیش رفت کے لیے پرامید ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے دوسرے دور اور خطے میں مستقل امن کے قیام کے حوالے سے پُرامید ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

latest urdu news

پاکستان عالمی سفارتی کردار ادا کر رہا ہے

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ دور پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین سفارتی ادوار میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مختلف ممالک کے درمیان رابطے اور ثالثی میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان تعاون نے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایران، امریکا اور خلیجی ممالک سے تعلقات

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ متوازن اور قریبی تعلقات ہیں، جس کی وجہ سے مختلف فریق پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بھی اسے خطے میں ایک اہم ملک بناتی ہے۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب پاکستانی بندرگاہیں عالمی تجارتی اور توانائی راستوں کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔

وزیراعظم کے مطابق خطے میں کسی بھی جنگ یا کشیدگی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں رکاوٹ پاکستان سمیت دنیا کی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔

مذاکرات میں پاکستانی قیادت کا کردار

وزیراعظم نے مذاکراتی کوششوں میں سید عاصم منیر کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

اس کے علاوہ انہوں نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل مختلف ممالک کے حکام سے رابطے میں رہے۔

امریکا اور ایران مذاکرات میں تعطل کا خدشہ، ایرانی میڈیا

پاک بھارت کشیدگی اور ٹرمپ کا ذکر

وزیراعظم نے گزشتہ برس مئی میں پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں کہا کہ اگر اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مداخلت نہ کرتے تو جنوبی ایشیا میں ایک بڑی تباہی جنم لے سکتی تھی۔

ان کے مطابق ایسے حالات میں سفارتکاری اور عالمی رابطوں نے خطے کو سنگین صورتحال سے بچانے میں کردار ادا کیا۔

دہشت گردی اور افغانستان سے متعلق مؤقف

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے، جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عسکریت پسند گروہ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کو متعدد بار امن اور تعاون کے پیغامات دیے، تاہم اگر پاکستان کے شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے ہوں تو خاموش رہنا ممکن نہیں۔

شہباز شریف کے مطابق پاکستان کی خواہش ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک پرامن تعلقات کے ساتھ آگے بڑھیں کیونکہ امن اور استحکام دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

خطے میں امن کی ضرورت

سیاسی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افغانستان کی صورتحال ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، اور ان خطوں میں استحکام عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور علاقائی سلامتی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان حالیہ مہینوں میں سفارتی سطح پر خود کو ایک متوازن اور فعال کردار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter