امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل کو مزید سخت بنانے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت امریکا میں موجود بیشتر غیرملکیوں کیلئے مستقل رہائش حاصل کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو جائے گا۔
نئی پالیسی کے مطابق اب زیادہ تر غیرملکی شہریوں کو گرین کارڈ کیلئے اپنے آبائی ممالک واپس جا کر امریکی سفارتخانے یا قونصل خانے کے ذریعے درخواست دینا ہوگی۔ امریکا کے اندر رہتے ہوئے “ایڈجسٹمنٹ آف اسٹیٹس” کے ذریعے گرین کارڈ حاصل کرنے کی سہولت کو محدود کر دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) کے مطابق اب یہ سہولت صرف “غیر معمولی حالات” میں ہی فراہم کی جائے گی۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ عارضی ویزے پر امریکا آنے والے افراد کو مقررہ مدت مکمل ہونے کے بعد واپس اپنے ممالک جانا چاہیے، نہ کہ امریکا میں رہ کر مستقل رہائش حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ایران کو افزودہ یورینیم رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے، ٹرمپ کا دوٹوک مؤقف
یہ نئی گائیڈ لائن خاص طور پر انٹرنیشنل طلبہ، عارضی ورک ویزا رکھنے والوں، سیاحتی ویزے پر امریکا میں موجود افراد اور دیگر عارضی قانونی حیثیت رکھنے والے غیرملکیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
امیگریشن ماہرین اور وکلا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو قانونی پیچیدگیوں، طویل انتظار اور خاندانوں کی علیحدگی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق نئی پالیسی سے امیگریشن کے عمل میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
