اسلام آباد: پاکستان نے ملک میں اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے کے منصوبے پر عملی پیش رفت شروع کر دی ہے، جس کا مقصد کم از کم 90 دن کے لیے ایندھن کا محفوظ ذخیرہ تیار کرنا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی صورتحال اور پس منظر
حکام کے مطابق یہ فیصلہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ عدم استحکام کے تناظر میں کیا جا رہا ہے، جو دنیا میں تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، خصوصاً ایران کے حوالے سے بڑھتی ہوئی عسکری تناؤ، نے عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ دنیا کے تقریباً ایک تہائی سمندری راستے سے منتقل ہونے والے خام تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت سمیت پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک پر بھی فوری طور پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی توانائی ضروریات اور خطرات
پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، جس کے باعث عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی میں خلل ملکی معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں اس وقت محدود مدت کے لیے تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، جو کسی بڑے بحران کی صورت میں ناکافی ثابت ہو سکتی ہے۔
پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات: ٹرانسپورٹ کرایوں میں نیا اضافہ
اسی تناظر میں اسٹریٹیجک ذخائر کا قیام ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف توانائی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے گا بلکہ ہنگامی حالات میں قیمتوں کے دباؤ کو بھی کسی حد تک کم کیا جا سکے گا۔
مجوزہ فنڈنگ اور حکومتی حکمتِ عملی
ابھرتے ہوئے منصوبے کے تحت حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر اضافی پیٹرولیم لیوی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اگر فی لیٹر 10 روپے لیوی نافذ کی جاتی ہے تو اندازے کے مطابق سالانہ تقریباً 20 ارب لیٹر کھپت کی بنیاد پر 200 ارب روپے تک کی رقم جمع کی جا سکتی ہے۔
مزید برآں، تین سال کے عرصے میں یہ رقم تقریباً 600 ارب روپے (یعنی 2 ارب ڈالر سے زائد) تک پہنچ سکتی ہے، جسے اسٹریٹیجک ذخیرہ گاہوں کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔
مستقبل کی سمت اور اہمیت
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر کا قیام پاکستان کے لیے طویل مدتی توانائی تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہو گا۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی ایسے ذخائر قائم کر چکے ہیں تاکہ کسی بھی عالمی بحران یا سپلائی میں تعطل کی صورت میں معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔
اگر یہ منصوبہ مؤثر انداز میں مکمل ہوتا ہے تو پاکستان نہ صرف بیرونی جھٹکوں سے بہتر طور پر نمٹ سکے گا بلکہ توانائی کے شعبے میں پائیدار استحکام کی بنیاد بھی رکھ سکے گا۔
