لاہور ہائیکورٹ میں سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی کے اثاثے منجمد کرنے اور انہیں اشتہاری قرار دینے کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے کیس کی سماعت کے لیے دو رکنی خصوصی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔
بینچ جسٹس علی ضیا باجوہ اور جسٹس طارق ندیم پر مشتمل ہوگا، جو صبح 10 بجے درخواست کی سماعت کریں گے۔ اس سے قبل جسٹس سید شہباز علی رضوی نے کیس کی سماعت سے معذرت کر لی تھی، جس کے بعد نیا بینچ تشکیل دیا گیا۔
درخواست مونس الٰہی کی والدہ قیصرہ الٰہی کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مونس الٰہی بیرون ملک مقیم ہیں اور ان کے خلاف سیاسی بنیادوں پر بے بنیاد مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما مونس الٰہی کو بڑا ریلیف، انٹرپول نے دو سال سے جاری تحقیقات بندکردیں
درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب عدالت نے مونس الٰہی کے اثاثے منجمد کرنے کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی تھی، جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مونس الٰہی کے اثاثے منجمد کرنے اور انہیں اشتہاری قرار دینے کے احکامات کالعدم قرار دیے جائیں۔
عدالت آج درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سمیت دیگر قانونی نکات کا جائزہ لے گی۔
