جہلم شہر میں چنگ چی رکشہ ڈرائیورز کی مبینہ من مانی، زائد کرایوں کی وصولی اور شہریوں کے ساتھ نامناسب رویے کے خلاف عوامی شکایات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ رکشہ ڈرائیورز کی جانب سے من پسند کرایے وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ شکایات کے باوجود متعلقہ ادارے اور انتظامیہ مؤثر کارروائی سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شاندار چوک سے بلال ٹاؤن، جادہ، جہلم کینٹ، پولیس لائن، کریم پورہ، اسلامیہ سکول اور محمدی چوک سمیت مختلف روٹس پر چلنے والے چنگ چی رکشوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شہریوں کے مطابق جن روٹس پر پہلے 50 روپے فی سواری وصول کیے جاتے تھے، وہاں اب 100 سے 150 روپے تک کرایہ طلب کیا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی شدید مالی مشکلات کا شکار ہے، جبکہ رکشہ کرایوں میں اضافے نے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ روزانہ سفر کرنے والے طلبہ، ملازمین، خواتین اور بزرگ شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر کوئی مسافر زائد کرایہ ادا کرنے سے انکار کرے تو بعض رکشہ ڈرائیور مبینہ طور پر تلخ کلامی، بدتمیزی اور جھگڑے پر اتر آتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ خواتین اور بزرگ افراد کو بھی اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان میں عدم تحفظ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
جہلم: خاتون کو ہراساں کرنے اور عفت میں خلل ڈالنے والا ملزم گرفتار
شہریوں نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ متعدد رکشہ ڈرائیور سڑکوں کے عین وسط میں گاڑیاں کھڑی کر کے سواریاں بٹھاتے اور اتارتے ہیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ بعض مقامات پر بے ہنگم اور خطرناک ڈرائیونگ بھی معمول بنتی جا رہی ہے، جو عوام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم، ڈی ایس پی ٹریفک اور متعلقہ ٹرانسپورٹ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ چنگ چی رکشوں کے کرایوں کا باقاعدہ تعین کیا جائے، زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ٹریفک کے مسائل، حادثات اور عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسافروں کے حقوق کے تحفظ اور ٹرانسپورٹ نظام کی بہتری کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
