Lahore High Court نے ایک اہم قانونی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ باپ کسی بھی نجی معاہدے، رضامندی نامے یا باہمی سمجھوتے کے ذریعے نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق ختم نہیں کر سکتا۔
یہ فیصلہ Justice Mohsin Akhtar Kayani نے ایک درخواست پر تفصیلی تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے دیا۔ عدالت نے باپ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے سابقہ فیصلوں کو برقرار رکھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق فریقین کی شادی 2002 میں ہوئی تھی اور 2005 میں طلاق ہو گئی تھی۔ طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں کی موجودگی میں ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت شوہر نے بچے کے نان نفقے کے سلسلے میں 60 ہزار روپے ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
بعد ازاں خاتون نے 2019 میں بچے کے نان نفقے کے لیے دوبارہ دعویٰ دائر کیا، جس پر والد کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سابقہ معاہدے کے بعد مزید دعویٰ قابلِ سماعت نہیں۔ تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بچے کے نان نفقے کا حق مستقل نوعیت کا ہے اور اسے کسی نجی معاہدے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ کا مریم نواز کو 7 کروڑ روپے واپس کرنے کا حکم
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مالی مشکلات یا معاشی تنگی بھی والد کی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتیں۔ عدالت کے مطابق نان نفقہ نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی اور مذہبی فریضہ بھی ہے، جبکہ واجب الادا نان نفقہ والد پر ایک قابلِ وصول قرض کی حیثیت رکھتا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے کی نقل متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس قانونی اصول سے متعلق آگاہی اور رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
