پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر مشاورت اور منظوری کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بجٹ ایک نہایت اہم اور حساس آئینی معاملہ ہے، اس لیے قانونی، آئینی اور انسانی بنیادوں پر عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے تاکہ اہم امور پر مشاورت مکمل کی جا سکے۔
درخواست کے مطابق صوبائی حکومت نے نئے مالی سال کا بجٹ تیار کر لیا ہے، تاہم حتمی منظوری کے لیے عمران خان سے مشاورت ناگزیر ہے، جس کے باعث ملاقات کی اجازت ضروری قرار دی گئی ہے۔
پنجاب بجٹ 2026-27: نئے ٹیکسوں سے گریز، عوامی ریلیف اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ متوقع
دوسری جانب وزیراعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی حکومت پر خیبر پختونخوا کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کے ترقیاتی پروگرام میں صوبے کے صرف چھ منصوبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ وفاقی بجٹ میں خیبر پختونخوا کے لیے خاطر خواہ وسائل یا نئے منصوبے مختص نہیں کیے گئے۔
