وزیر بلدیات خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی بجٹ پیش کیا جائے گا یا نہیں، اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق یہ بھی طے نہیں کیا گیا کہ بجٹ تین ماہ کے لیے ہوگا یا پورے مالی سال کے لیے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مینا خان آفریدی نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور مشیر خزانہ کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ضروری ہے، کیونکہ عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے اور بجٹ سمیت اہم معاملات پر ان کی مشاورت ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوامی ریلیف اور دیگر اہم اقدامات سے متعلق حتمی ہدایات بانی پی ٹی آئی کی مشاورت کے بعد دی جائیں گی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے پورے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پی ٹی آئی کے خیبرپختونخوا ارکان کے تحفظات، بیرسٹر گوہر سے فوری اقدامات کا مطالبہ
شوکت یوسفزئی کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ابتدا میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے کی صورت میں تین ماہ کا بجٹ پیش کرنے کے خواہاں تھے، تاہم قانونی پیچیدگیوں کے باعث یہ تجویز قابلِ عمل نہ رہی۔
