وفاقی وزیر دفاع Khawaja Asif نے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت دوبارہ کسی قسم کی جارحانہ پالیسی اختیار کرتا ہے تو اسے پہلے سے زیادہ سخت اور مؤثر جواب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی بھارت کی جانب سے کیے گئے اقدامات اسے مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے، بلکہ اسے سفارتی اور عسکری سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کو خطے کے امن و استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف پراکسی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجود بعض عناصر کو پاکستان مخالف مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
خواجہ آصف کا بیان: بھارت پر پراکسی جنگ کے الزامات، خطے میں امن کی خواہش کا اعادہ
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور اگر کسی جانب سے اشتعال انگیزی کی گئی تو اس کا مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک تصادم کے بجائے مذاکرات اور تعاون کی راہ اختیار کریں۔
