اسلام آباد: کشمیر میں جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ Fazlur Rehman سے مصالحتی اور ثالثی کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال نہ صرف کشمیری عوام بلکہ پاکستان کے عوام کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم خطے میں امن، استحکام اور کشمیری عوام کی سلامتی کے حوالے سے گہری فکر رکھتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں Sardar Umar Aziz، Khawaja Mehran اور Shaukat Nawaz Mir کی جانب سے ایک باقاعدہ مراسلہ موصول ہوا ہے، جس میں کشمیر میں پیدا ہونے والے بحران اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے ان سے ثالثی کی درخواست کی گئی۔
جے یو آئی سربراہ کے مطابق انہوں نے کشمیر اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مصالحتی کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کو مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کی طرف بڑھنا چاہیے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 42 مطالبات تسلیم کر لیے
مولانا فضل الرحمان نے امید ظاہر کی کہ سنجیدہ کوششوں اور باہمی تعاون کے ذریعے موجودہ بحران پر قابو پانے اور عوامی خدشات کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔
