آئی فون 16 درآمد کیس میں مبینہ فراڈ بے نقاب، ایف بی آر کو تحقیقات کا حکم

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد: وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے آئی فون 16 کی درآمد اور کسٹمز کلیئرنس کے دوران مبینہ منظم فراڈ کا نوٹس لیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو جامع تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

latest urdu news

وفاقی ٹیکس محتسب ظفر حجازی کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بظاہر یہ ایک منظم اسکیم معلوم ہوتی ہے، جس کے تحت تمام قانونی ٹیکس ادا کرنے کے باوجود اصل وصول کنندہ کو ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اس کا ڈیوٹی کلیئر شدہ موبائل فون فراہم نہیں کیا گیا۔

شکایت گزار محمد نوشیرواں خان کے مطابق ان کی بہن نے دسمبر 2024 میں کینیڈا سے فیڈایکس (FedEx) کے ذریعے آئی فون 16 پلس پاکستان بھیجا تھا۔ کراچی پہنچنے پر انہوں نے پی ٹی اے ٹیکس کی مد میں ایک لاکھ 38 ہزار 526 روپے جمع کرائے، تاہم اس کے باوجود انہیں موبائل فون موصول نہیں ہوا۔ بعد ازاں انکشاف ہوا کہ مبینہ طور پر جعلی اتھارٹی لیٹر کے ذریعے فون کسی اور شخص کے حوالے کر دیا گیا۔

سماعت کے دوران کسٹمز حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ موبائل فون اصل دستاویزات، انوائس اور ڈیٹینشن رسید کی تصدیق کے بعد کلیئرنگ ایجنٹ کے ذریعے جاری کیا گیا تھا۔ تاہم وفاقی ٹیکس محتسب نے سوال اٹھایا کہ جب درآمدی ریکارڈ میں وصول کنندہ کا نام واضح طور پر موجود تھا تو موبائل فون اصل مالک کے بجائے کسی اور کے حوالے کیسے کیا گیا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگرچہ درآمدی دستاویزات اور ٹریکنگ ریکارڈ میں وصول کنندہ کا نام تبدیل نہیں کیا گیا، تاہم ایئر وے بل اور انوائس میں مبینہ طور پر پتہ اور رابطہ نمبر تبدیل کر کے کسی دوسرے شخص کی معلومات درج کر دی گئی تھیں۔

ایف ٹی او نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ اس معاملے میں فیڈایکس، متعلقہ کسٹمز حکام اور نجی افراد کے ممکنہ کردار کی مکمل تحقیقات کی جائیں، جبکہ ملک بھر میں اسی نوعیت کے دیگر ممکنہ فراڈ کیسز کا بھی جائزہ لیا جائے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter