اسلام آباد اور راولپنڈی کی مختلف جامعات میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر تعلیمی سرگرمیوں میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد اور راولپنڈی کی بارانی یونیورسٹی نے امتحانات ملتوی کرنے اور کلاسز آن لائن منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بارانی یونیورسٹی کیمپس بند
راولپنڈی کی بارانی یونیورسٹی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مین کیمپس کو 26 اپریل تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سکیورٹی خدشات کو بنیاد بناتے ہوئے انتظامیہ نے تدریسی عمل کو مکمل طور پر آن لائن منتقل کر دیا ہے۔
مزید برآں، ہاسٹل میں مقیم طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے کمرے خالی کر دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور دیگر عملے کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں جزوی طور پر جاری رکھی جا سکیں۔
اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں بھی تبدیلیاں
اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں بھی تعلیمی شیڈول میں تبدیلی کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق 20 سے 24 اپریل تک تمام کلاسز آن لائن منعقد کی جائیں گی۔
اسی دوران 20 اور 21 اپریل کو ہونے والے مڈ ٹرم امتحانات بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں، جس سے طلبہ کو اپنے تعلیمی معمولات میں وقتی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ضلعی انتظامیہ کی وضاحت
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شہر میں دکانیں یا بس اڈے بند کرنے سے متعلق کوئی باضابطہ احکامات جاری نہیں کیے گئے۔ انتظامیہ کے مطابق اگر مستقبل میں اس طرح کے کوئی اقدامات کیے گئے تو اس کی پیشگی اطلاع فراہم کی جائے گی۔
فیڈرل بورڈ نے انٹرمیڈیٹ کے دوسرے سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان کر دیا
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مختلف افواہیں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں، جن میں شہری سرگرمیوں پر ممکنہ پابندیوں کا ذکر کیا جا رہا تھا۔
تعلیمی تسلسل اور طلبہ کی مشکلات
آن لائن کلاسز اور امتحانات کے التوا سے طلبہ کو وقتی طور پر مشکلات کا سامنا ضرور ہوگا، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں۔
ماہرین تعلیم کے مطابق آن لائن نظام وقتی حل تو فراہم کرتا ہے، لیکن اس سے تعلیمی معیار اور امتحانی تیاری کے طریقہ کار پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ان طلبہ کے لیے جو عملی یا لیب پر مبنی کورسز کر رہے ہیں۔
مجموعی طور پر اسلام آباد اور راولپنڈی کی جامعات میں یہ فیصلے سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ اقدامات عارضی ہیں، لیکن ان کا براہ راست اثر طلبہ کی تعلیمی روٹین پر پڑ رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ حالات معمول پر آنے کے بعد تعلیمی سرگرمیاں کس رفتار سے بحال ہوتی ہیں۔
