ملک بھر میں فی تولہ سونا 4 لاکھ 26 ہزار روپے سے تجاوز کرگیا، عالمی مارکیٹ میں بھی فی اونس قیمت 139 ڈالر اضافے کے بعد 4,035 ڈالر ہوگئی۔
کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں فی تولہ سونا تقریباً 14 ہزار روپے مہنگا ہوگیا۔ قیمتوں میں اس اضافے کے بعد ملک بھر میں سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 26 ہزار روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 13 ہزار 900 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 4 لاکھ 26 ہزار 36 روپے ہوگئی ہے۔
سونے کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے باعث زیورات خریدنے والے صارفین اور سونے کی مارکیٹ سے وابستہ کاروباری افراد کی توجہ ایک بار پھر قیمتی دھات کی بدلتی ہوئی قیمتوں پر مرکوز ہوگئی ہے۔
10 گرام سونے کی قیمت بھی بڑھ گئی
جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
10 گرام سونے کا بھاؤ 11 ہزار 917 روپے بڑھنے کے بعد 3 لاکھ 65 ہزار 257 روپے ہوگیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف بڑے پیمانے پر سونا خریدنے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے عام صارفین بھی متاثر ہوتے ہیں، خصوصاً وہ افراد جو شادی بیاہ یا دیگر تقریبات کے لیے سونے کے زیورات خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سونے کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ، فی تولہ 2400 روپے مہنگا
عالمی مارکیٹ میں بھی سونا مہنگا
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی بازار میں فی اونس سونے کی قیمت 139 ڈالر اضافے کے بعد 4,035 ڈالر ہوگئی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ روپے اور ڈالر کی شرح تبادلہ بھی مقامی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
سونے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات
پاکستان میں سونا روایتی طور پر زیورات کی تیاری اور سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تاہم قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث خریداروں اور تاجروں دونوں کو مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔
خصوصاً شادیوں کے سیزن میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ متوسط طبقے کے لیے زیورات کی خریداری مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
مقامی اور عالمی مارکیٹ میں تازہ اضافے کے بعد سونے کے خریداروں کی نظریں آئندہ قیمتوں پر لگی ہوئی ہیں، جبکہ مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ کا انحصار عالمی نرخوں اور شرح تبادلہ سمیت مختلف معاشی عوامل پر ہوگا۔
