چکوال میں آسٹریلوی نژاد کمسن بچی کی ہلاکت کے مقدمے میں گرفتار کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ واقعے میں بچی کے والد اور بھائی بھی زخمی ہوئے تھے۔
پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 10 اور 11 جون کی درمیانی شب پیش آیا، جب سی سی ڈی کے ایک کانسٹیبل نے مبینہ طور پر ڈاکوؤں کا تعاقب کرتے ہوئے فائرنگ کی۔ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ شناخت میں غلطی کے باعث گولیاں ایک پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان کو لگ گئیں، جو اس وقت خود ڈکیتی کی واردات کا شکار تھا۔
ملزم اہلکار کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں تفتیشی افسر نے بتایا کہ فائرنگ میں استعمال ہونے والی سرکاری رائفل تحویل میں لے لی گئی ہے اور ملزم کا ابتدائی بیان بھی ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ واقعے کے روز اہلکار کی ڈیوٹی اور حاضری کا ریکارڈ بھی جانچا جا چکا ہے۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ متاثرہ گاڑی اور جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ شواہد کی روشنی میں مزید حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
چکوال: موٹروے پولیس کی ایمانداری کی مثال، 53 لاکھ روپے مسافر کو واپس کر دیے گئے
تفتیشی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے مطلوبہ معلومات حاصل کر لی گئی ہیں اور مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں رہی، جس پر عدالت نے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔
دریں اثنا، چکوال پولیس کا دعویٰ ہے کہ متاثرہ خاندان سے لوٹ مار میں ملوث دونوں مشتبہ ڈاکو بعد ازاں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے۔
واقعے کی مکمل چھان بین کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے زخمی والد عدیل احمد کا بیان بھی قلمبند کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات کو حتمی شکل دے کر آئندہ چند روز میں رپورٹ متعلقہ اعلیٰ حکام کو پیش کی جائے گی۔
