گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ انتخابی مہم کا آج آخری دن ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں ووٹرز کو متوجہ کرنے کے لیے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آج گلگت میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کریں گے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی انتخابی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بڑی ریلی نکالی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق خطے کے 24 انتخابی حلقوں میں ووٹنگ کے لیے 1368 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ان نشستوں پر مجموعی طور پر 396 امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں جن میں 266 آزاد امیدوار شامل ہیں، جبکہ 7 خواتین امیدوار بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔
گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 9 لاکھ 58 ہزار 80 ہے۔ ان میں 5 لاکھ 3 ہزار 772 مرد ووٹرز اور 4 لاکھ 54 ہزار 708 خواتین ووٹرز شامل ہیں، جو اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
گلگت بلتستان پولیس کے مطابق انتخابی مہم کے دوران امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں رہی ہے۔ یکم مئی سے اب تک 614 مختلف سیاسی سرگرمیاں پرامن ماحول میں منعقد ہو چکی ہیں، جن میں 62 بڑے عوامی جلسے بھی شامل ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق اس عرصے کے دوران 217 عوامی ملاقاتیں اور افتتاحی تقریبات منعقد کی گئیں، جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں نے 243 انتخابی دفاتر قائم کیے اور 92 سیاسی جلوس نکالے۔
سیکیورٹی اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ انتخابی عمل کے دوران تحمل، ذمہ داری اور قانون کی پاسداری کا مظاہرہ کریں۔ شہریوں کو افواہوں، اشتعال انگیز بیانات اور منفی پروپیگنڈے سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار یا ہنگامی صورتحال کی صورت میں شہری فوری طور پر ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کریں تاکہ بروقت کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
