18ویں ترمیم کے بعد سماجی فلاحی منصوبے صوبوں کی ذمہ داری ہیں، رانا ثناء اللہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے ثمرات صرف صوبوں تک محدود نہیں رہے بلکہ وفاق اور تمام صوبوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ ان کے مطابق جب صوبوں کو مالی وسائل اور اختیارات منتقل کیے گئے ہیں تو انہیں متعلقہ ذمہ داریاں بھی سنبھالنی چاہئیں۔

latest urdu news

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی ماحول میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید کرتی ہیں اور ووٹرز کو اپنے حق میں قائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اس لیے ایسے بیانات غیر معمولی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک سماجی بہبود کی اسکیم ہے اور 18ویں ترمیم کے بعد اس نوعیت کے فلاحی منصوبوں کی ذمہ داری بنیادی طور پر صوبوں پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ صوبائی حکومتیں عوامی فلاح کے پروگراموں کو مقامی ضروریات کے مطابق زیادہ مؤثر انداز میں چلا سکتی ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے سپرد کرنے کی تجویز سے اتفاق نہیں کرتی، تاہم اختلافِ رائے حکومت کو اس معاملے پر بحث اور تجاویز پیش کرنے سے نہیں روک سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے کم یا زیادہ کرنے پر اصرار نہیں کر رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ مالی سال میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ وفاقی حکومت اور دفاعی شعبے کو مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق آئینی ترامیم کے بعد فلاحی اور سماجی بہبود کے کئی شعبے صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آ چکے ہیں، اس لیے ان معاملات میں صوبوں کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter