امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران ایران سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے زخمی ہونے کا شبہ ہے، تاہم وہ زندہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنے فیصلے دانشمندی سے کرنا ہوں گے، بصورت دیگر امریکا اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران نے کسی معاہدے سے گریز کیا تو امریکی افواج دوبارہ سخت کارروائی کر سکتی ہیں۔
پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی عسکری صلاحیتوں کا کوئی مقابلہ نہیں اور ایران کو یہ سمجھنا چاہیے کہ خطے میں امریکی موجودگی مضبوط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے میزائل لانچرز کی دوبارہ تیاری اور فوجی اثاثوں کی منتقلی پر امریکا نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکی افواج پہلے سے زیادہ تیار ہیں۔
امریکی وزیر جنگ کے مطابق ایران کی جانب سے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دراصل بحری قزاقی کے مترادف ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک پر امریکی بحریہ کی نگرانی اور اثر برقرار ہے، اور جب تک ضرورت ہوگی یہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی۔
