بھارت میں بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کے بعد اداکار امیتابھ بچن کے بنگلے اور گلوکار دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ سے متعلق دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ای میل میں امیتابھ بچن کے گھر ’جلسہ‘ پر حملے اور دلجیت دوسانجھ کے 27 نومبر کو ہونے والے کنسرٹ کی سکیورٹی متاثر کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔
حکام کے مطابق دھمکی آمیز ای میل برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کو بھیجی گئی۔ واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے دھمکیوں کے پس منظر اور ان میں ملوث افراد کا پتا لگانے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
دھمکی آمیز ای میل کی تحقیقات جاری
بھارتی میڈیا کے مطابق ڈپٹی کمشنر پولیس منیش کلوانیا نے بتایا کہ بی ایم سی کو موصول ہونے والی ای میل میں حملے سے متعلق دھمکیاں دی گئی تھیں۔ ان کے مطابق جانچ پڑتال کے دوران کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔
پولیس افسر نے یہ بھی بتایا کہ ممبئی کے علاقے دادار میں واقع اسکولوں کو بھی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ تاہم، امیتابھ بچن کے بنگلے اور دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے پیچھے کون ہے، اس بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کی جانب سے تاحال دھمکیوں کے ذمہ دار افراد یا ان کے ممکنہ محرکات کے بارے میں کوئی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
سلمان خان کے ساتھ کام کرنے پر ٹائیگر شروف کو نشانہ بنایا گیا، بشنوئی گینگ کا دعویٰ
دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ کی سکیورٹی زیرِ غور
دلجیت دوسانجھ کا کنسرٹ 27 نومبر کو منعقد ہونا ہے۔ دھمکی آمیز ای میل میں اس تقریب کی سکیورٹی خراب کرنے کی بات کی گئی تھی، جس کے بعد کنسرٹ کے حوالے سے سکیورٹی خدشات سامنے آئے ہیں۔
دوسری جانب امیتابھ بچن کا ممبئی میں واقع بنگلہ ’جلسہ‘ بھی دھمکی کا ہدف بتایا گیا ہے۔ پولیس اور متعلقہ ادارے دونوں معاملات کی جانچ کر رہے ہیں۔
ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ
رپورٹ کے مطابق رواں ماہ 18 اکتوبر کو ممبئی کے علاقے جوہو میں ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اداکار فٹ بال میچ کھیلنے کے بعد وہاں سے روانہ ہو رہے تھے۔
فائرنگ کے واقعے میں ٹائیگر شروف محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور سمیت 2 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
امیتابھ بچن اور دلجیت دوسانجھ سے متعلق دھمکیاں اسی واقعے کے بعد سامنے آنے کی اطلاعات ہیں، تاہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر دونوں معاملات کے درمیان کسی براہ راست تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی۔ سکیورٹی اداروں کی تحقیقات کے بعد ہی دھمکیوں کے پس منظر سے متعلق مزید حقائق سامنے آسکیں گے۔
