حنا جاوید قتل کیس: اہلخانہ کا مریم نواز کو خط، جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

راولپنڈی میں قتل ہونے والی حنا جاوید کے اہلخانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو خط لکھ کر کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ اہلخانہ نے پولیس کی تحقیقاتی کمیٹی کے نتائج مسترد کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سے مقدمے کی فائل کا تفصیلی جائزہ لینے اور تمام پہلوؤں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنانے کی درخواست کی ہے۔

latest urdu news

خط کے متن کے مطابق مقتولہ کے اہلخانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے براہ راست رابطے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم انہیں کامیابی نہیں ملی۔ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ قتل کیس میں شواہد کا منصفانہ جائزہ لیا جائے اور کسی بھی ملزم کو تحفظ فراہم نہ کیا جائے۔

پولیس تحقیقاتی کمیٹی کے نتائج مسترد

حنا جاوید کے اہلخانہ نے اپنے خط میں پولیس کی تحقیقاتی کمیٹی کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ مقدمہ عدالت میں پیش ہونے سے پہلے پولیس کی کوئی تحقیقاتی کمیٹی کسی شخص کو حتمی طور پر مجرم یا بے گناہ قرار نہیں دے سکتی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ گھریلو ملازم کے قتل میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، تاہم فیصل سے متعلق شواہد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اہلخانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ کیس میں سامنے آنے والے تمام شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

خاندان نے وزیراعلیٰ سے درخواست کی ہے کہ وہ مقدمے کی فائل کا خود تفصیلی جائزہ لیں اور تحقیقات کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔

حنا جاوید قتل کیس: پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کے سنگین نشانات سامنے آگئے

حنا جاوید قتل کیس کی تحقیقات جاری

حنا جاوید قتل کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی سامنے آچکی ہے، جس میں مقتولہ کے جسم پر متعدد زخموں اور دیگر چوٹوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ مقدمے میں نامزد ملزمان سے متعلق قانونی کارروائی جاری ہے، تاہم کسی بھی شخص کے جرم کا حتمی تعین عدالت ہی کرے گی۔

اہلخانہ کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خاندان پولیس کی تفتیش اور تحقیقاتی کمیٹی کے نتائج پر سوالات اٹھا رہا ہے۔

مریم نواز کی انصاف کی یقین دہانی

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ حنا جاوید قتل کیس کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔ انہوں نے مقتولہ کے اہلخانہ سے ملاقات کرنے اور انہیں انصاف کی فراہمی کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اہلخانہ کے مطالبے پر جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے یا موجودہ تحقیقاتی عمل ہی کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ فی الحال جوڈیشل کمیشن کے قیام سے متعلق کسی حتمی فیصلے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں