چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے کہا ہے کہ بعض کھلاڑی شہرت حاصل کرنے کے بعد سیکھنے کا عمل چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ کرکٹ ایسا کھیل ہے جس میں مسلسل محنت اور بہتری کی کوشش ضروری ہے۔ ان کے مطابق مشکل وقت آنے پر بھی محنت جاری رکھنا کامیابی کے لیے اہم ہے۔
لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ انہوں نے بہت سے ایسے کرکٹرز دیکھے ہیں جو مشکل حالات کا سامنا کرنے پر محنت کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مستقل مزاجی سے کام کرنا چاہیے۔
پاکستان میں کرکٹ کا ٹیلنٹ موجود ہے، محسن نقوی
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، تاہم اس صلاحیت کو نکھار کر کھلاڑیوں کو تیار کرنا ایک مشکل کام ہے۔ ان کے مطابق یہ ذمہ داری صرف پاکستان کرکٹ بورڈ اکیلے پوری نہیں کرسکتا، بلکہ اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کرکٹ فرنچائزز اور علاقائی ایسوسی ایشنز سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو کھلاڑیوں کی تربیت اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ پی سی بی نے اپنے نظام میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور انہیں امید ہے کہ مستقبل میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں سفارش نہ ہونے کا دعویٰ
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اب ڈومیسٹک کرکٹ میں سفارش بالکل نہیں چل رہی۔ ان کے مطابق کھلاڑیوں کی صلاحیت اور کارکردگی کو آگے بڑھنے کا بنیادی ذریعہ ہونا چاہیے تاکہ باصلاحیت کرکٹرز کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کے مواقع مل سکیں۔
چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے لیے پاکستانی ٹیم 25 اکتوبر کو گلابی کٹ پہنے گی
انہوں نے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں موجود کھیلوں کے ٹیلنٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان اداروں میں نوجوان کھلاڑیوں کو تلاش کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی ضرورت ہے۔
خواتین کو بھی کھیلوں میں آگے لانے پر زور
چیئرمین پی سی بی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ لڑکیاں بھی کھیلوں میں لڑکوں کے شانہ بشانہ حصہ لیں۔ ان کے مطابق خواتین کو کھیلوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا بھی اہم ہے۔
محسن نقوی نے کھلاڑیوں کی ترقی کے حوالے سے لاہور قلندرز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے پلیئرز ڈویلپمنٹ کے لیے نمایاں کام کرنے والی فرنچائز قرار دیا۔
ان کے خطاب میں نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت، ڈومیسٹک کرکٹ میں میرٹ کے فروغ اور ملک میں موجود صلاحیتوں کو بہتر انداز میں سامنے لانے پر زور دیا گیا۔
