عالمی تنازعات سے اشیائے ضروریہ مہنگی ہوسکتی ہیں، وزیر خزانہ کا خدشہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تنازعات کے اثرات پاکستان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت غیر یقینی صورت حال سے گزر رہی ہے، تاہم مختلف چیلنجز کے باوجود پاکستان میں معاشی بہتری کا عمل جاری ہے۔

latest urdu news

لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے، ٹیکس نظام میں اصلاحات اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

عالمی صورت حال اور مہنگائی کے خدشات

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عالمی تنازعات کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر پڑنے کا خدشہ موجود ہے۔ عالمی سطح پر غیر یقینی صورت حال کے اثرات مختلف معیشتوں پر مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کو بھی ان حالات میں معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام کو بہتر بنانے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے اصلاحات کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ معاشی ترقی میں نجی شعبے کی شرکت بڑھانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق عالمی سرمایہ کار پاکستان کے علاوہ دیگر منڈیوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ یورپ اور امریکا کے سرمایہ کار پاکستانی بانڈز میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

پیٹرول کی فراہمی اور ہدف پر مبنی سبسڈی

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے کوشش کی کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں عوام کو پیٹرول کے حصول کے لیے قطاروں میں نہ لگنا پڑے۔

ان کے مطابق حکومت نے ہدف پر مبنی سبسڈی فراہم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی، کیونکہ بڑی گاڑیاں رکھنے والے افراد کو اسی نوعیت کی سبسڈی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

پاکستان امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف بڑھ رہا ہے، وزیر خزانہ

محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ موسم سرما کے لیے توانائی کی ضروریات پوری کرنے پر کام جاری ہے۔ گیس اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے، جبکہ ان کے بقول خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کی صورت حال تسلی بخش ہے۔

پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اور ترسیلات زر میں اضافے کی توقع

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ درآمدات پر زیادہ انحصار کے باعث ماضی میں پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، ان کے مطابق 4 سے 5 سال کی کوششوں کے بعد ملک کی کریڈٹ ریٹنگ دوبارہ بی کی سطح پر لائی گئی ہے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں مالی سال پاکستان کی ترسیلات زر 44 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ محمد اورنگزیب کے مطابق جنگ کے باعث ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ تھا، لیکن اس کے باوجود ان میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

وزیر خزانہ کے بیان میں معاشی استحکام، توانائی کی مسلسل فراہمی، ٹیکس اصلاحات اور سرمایہ کاری کے فروغ کو اہم قرار دیا گیا۔ تاہم، عالمی تنازعات کے باعث قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی برقرار ہے، جس کے اثرات کا انحصار عالمی حالات اور توانائی سمیت ضروری اشیا کی رسد پر ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں