لاہور ہائیکورٹ نے نابالغ بچوں کے نان و نفقہ سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتےہوئے قرار دیا ہے کہ والدین کی باہمی رضامندی سے بھی بچوں کا خرچہ کم یا معاف نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نےخاتون شازیہ نورین کی درخواست منظورکرتےہوئے معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا،عدالت نےقراردیا کہ نان و نفقہ بچوں کاقانونی حق ہے،والدین یا سرپرست اسےکم یا ختم کرنےکااختیار نہیں رکھتے۔
عدالت نےہدایت کی کہ فیملی کورٹ بچوں کے والد کی مالی حیثیت اوردیگر متعلقہ عوامل کا جائزہ لے کر نان و نفقہ کا تعین کرے۔
فیصلے کےمطابق جنوری 2026 میں نابالغ بچی اور اسکے بھائی کا مجموعی نان و نفقہ 60 ہزار روپےماہانہ مقررکیاگیاتھا،تاہم بچوں کی والدہ نےبیانِ حلفی کےذریعےخرچہ کم کرنے اوردیگر مطالبات سے دستبردار ہونے پررضامندی ظاہر کی۔
کیپسٹی چارجز اور آئی پی پیز کیس: لاہور ہائیکورٹ نے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے دی
بچوں نےاس فیصلے کےخلاف سیشن جج سرگودھا کے سامنے اپیل دائر کی، جو خارج کردی گئی تھی،لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ عدالت کو یہ جائزہ لینا ہوگا کہ والدین کے درمیان طے پانے والا معاہدہ نابالغ بچوں کے مفاد میں ہے یا نہیں اور آیا اس سے بچوں کے حقوق محدود تو نہیں ہوتے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ نابالغ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت کو باشعور اور محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے،نابالغ بچے ہمارا کل نہیں، آج ہیں۔
