بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے تصدیق کی ہے کہ انہیں 27 نومبر کو لاہور میں منعقد ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی اس کانفرنس میں شرکت اور لاہور آنے کے خواہش مند ہیں، تاہم انہوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے بیرون ملک سفر کے لیے اجازت ملنے سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھگونت مان نے یہ بات جمعے کو بھارتی پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کے مطابق کانفرنس کے منتظمین نے انہیں لاہور آنے کی دعوت دینے کے ساتھ میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔
بھگونت مان کا دورہ پاکستان سے متعلق دلچسپ تبصرہ
وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے اپنے مخصوص مزاحیہ اور طنزیہ انداز میں بیرون ملک سفر کے لیے درکار اجازتوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھارتی حکومت انہیں فرانس اور جاپان جیسے ممالک جانے کی اجازت نہیں دیتی تو پاکستان جانے کی اجازت کیسے دے گی؟
ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاہور میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے لیے انہیں حکومتی اجازت درکار ہوگی۔ تاہم، تاحال ان کے دورے کی حتمی منظوری یا پاکستان آمد کے بارے میں کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
’ہماری ثقافت ایک ہے‘
بھگونت مان نے کہا کہ پنجابی ثقافت مشترک ہے اور دونوں جانب کے شاعروں سمیت دیگر افراد لاہور جائیں گے۔ انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی وہاں جانا چاہتے ہیں۔
اسموگ کے خلاف ہماری طرح بھارتی پنجاب بھی اقدامات کرے، مریم نواز
اس موقع پر بھارتی پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے وزیراعلیٰ سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر انہیں پاکستان جانے کی اجازت مل جائے تو وہ انہیں بھی اپنے ساتھ لے جائیں۔
اس پر بھگونت مان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سب مل کر کرتار پور جائیں۔ ان کے اس تبصرے میں پنجابی ثقافت اور مشترکہ ورثے سے وابستگی کا اظہار نمایاں تھا۔
لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس 27 نومبر کو ہوگی
عالمی پنجابی کانفرنس 27 نومبر کو لاہور میں منعقد ہونے والی ہے۔ اس میں شرکت کے لیے بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو دعوت دیے جانے کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے ممکنہ دورے پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
تاہم، کانفرنس میں بھگونت مان کی شرکت کا انحصار متعلقہ اجازتوں پر ہوگا۔ فی الحال ان کی جانب سے لاہور آنے کی خواہش کا اظہار سامنے آیا ہے، لیکن دورے کی حتمی منظوری کی تصدیق نہیں ہوئی۔
