جنوبی کوریا کے شہر بوسان کی ایک مصنوعی نہر میں پھنسی شارک اپنی انوکھی حرکتوں کے باعث لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ امدادی کارکنوں نے اسے کئی مرتبہ کھلے سمندر میں واپس بھیجنے کی کوشش کی، لیکن ہر بار وہ نہر کی طرف لوٹ آئی۔ تازہ کوشش کے دوران بھی شارک کچھ فاصلے تک سمندر کی جانب گئی، تاہم چند گھنٹوں بعد دوبارہ اسی آبی گزرگاہ میں پہنچ گئی۔
بار بار سمندر کی طرف لے جانے کی کوشش ناکام
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ شارک کئی ہفتوں سے بوسان کی ایک مصنوعی نہر میں موجود ہے۔ اسے محفوظ طریقے سے کھلے سمندر میں منتقل کرنے کے لیے امدادی کارکنوں نے بڑے جالوں کی مدد سے متعدد کوششیں کیں، لیکن تاحال مستقل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔
حکام نے حال ہی میں تیسری مرتبہ شارک کو سمندر کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ اس دوران شارک کچھ حد تک کھلے پانی کی جانب بڑھ گئی تھی، جس سے امید پیدا ہوئی کہ اسے محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے گا۔
تاہم، چند گھنٹوں بعد شارک نے نہر میں واپس آنے کا راستہ اختیار کرلیا اور وہاں لگی رکاوٹوں کو بھی عبور کرگئی۔
107 سالہ شخص نے لمبی عمر کا حیران کن راز بتا دیا، پسندیدہ کھانا بھی کھاتے ہیں
’بوکانگی‘ کے نام سے مشہور ہوگئی شارک
رپورٹس کے مطابق اس شارک کو ’بوکانگی‘ (Bukangi) کے نام سے پکارا جا رہا ہے۔ اس کے بار بار نہر میں واپس آنے کے باعث یہ مقامی لوگوں اور سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کرچکی ہے۔
شارک کو دیکھنے کے لیے روزانہ بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اس کے غیر معمولی رویے نے اس واقعے کو ایک دلچسپ خبر بنا دیا ہے، تاہم ماہرین کی جانب سے اس بات کی تصدیق سامنے نہیں آئی کہ شارک بار بار اسی نہر میں کیوں واپس آ رہی ہے۔
حکام نے رکاوٹیں مزید مضبوط کردیں
حکام کے مطابق شارک کو دوبارہ نہر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے رکاوٹوں کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اسے محفوظ طریقے سے کھلے سمندر کی جانب منتقل کرنا ہے۔
تاحال شارک کو مستقل طور پر سمندر میں واپس بھیجنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ حکام کو اب اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ اسے منتقل کرنے کے دوران اس کی سلامتی کو نقصان نہ پہنچے۔
یہ واقعہ نہ صرف مقامی آبادی بلکہ سوشل میڈیا پر بھی دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے، جہاں لوگ شارک کے بار بار اسی مقام پر واپس آنے کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔
