سلمان اکرم راجہ نے محسن نقوی کا سہیل آفریدی پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام مسترد کردیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کو سبوتاژ کیا۔

latest urdu news

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نہیں بلکہ حکومت کا مؤقف اور اس کی شرائط تھیں۔

جیونیوز کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کے بعض اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی بات کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ 72 گھنٹوں کے اندر صوبے کے 5 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے واضح کردیا تھا کہ وہ ایسی کسی تجویز کی اجازت نہیں دے سکتی۔ سلمان اکرم راجہ کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی کی مذاکراتی ٹیم کے مؤقف میں اس معاملے پر کوئی اختلاف نہیں تھا۔

دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اختلاف

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مذاکرات میں خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات ایک اہم معاملہ تھے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں وفاقی اور صوبائی حکومت کے باہمی اتفاق اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسے اقدامات چاہتی تھی جن کی مکمل ذمہ داری صوبائی حکومت قبول کرے، جبکہ پی ٹی آئی کا مؤقف تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے صوبے کی سیاسی قیادت اور متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیا جائے۔

سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی مذاکراتی ٹیم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیوں کی مخالف نہیں تھی، تاہم ان اقدامات کے طریقہ کار اور صوبائی حکومت کے کردار پر اختلاف موجود تھا۔

محسن نقوی اور گورنر خیبرپختونخوا کی اہم ملاقات، آئینی کردار ادا کرنے پر اتفاق

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور علاج کا معاملہ

پی ٹی آئی رہنما کے مطابق مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے طبی علاج کا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی چاہتی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی اور ان کے خاندان کی مرضی کے مطابق کرایا جائے، جبکہ حکومت کا مؤقف تھا کہ علاج آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔

ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے منگل کو ملاقات کی اجازت ملنے کی امید ظاہر کی گئی تھی، تاہم دیگر مطالبات پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی تک رسائی اور خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی کی پالیسی دونوں اہم اختلافی نکات کے طور پر سامنے آئے۔

محسن نقوی نے سہیل آفریدی کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا تھا

واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں تقریباً تمام معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔

محسن نقوی کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے انسداد دہشت گردی کے اقدامات سے متعلق تحریری معاہدے اور 72 گھنٹوں میں عمل درآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا، لیکن بعد میں صوبائی حکومت اس مؤقف سے پیچھے ہٹ گئی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات یکطرفہ طور پر کرنے پر اصرار تھا۔ یوں مذاکرات کے خاتمے کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی دونوں جانب سے ایک دوسرے کو تعطل کا ذمہ دار قرار دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter