لاہور میں آذربائیجان کی خاتون ڈیانا سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں سی سی ڈی نے ملزم احمد تنویر کو عدالت سے حراست میں لے لیا۔ خاتون نے نئے ویڈیو بیان میں ملزم کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کا ابتدائی بیان دباؤ میں لیا گیا تھا، جبکہ پولیس نے سوشل میڈیا پر بیانات کے ذریعے تفتیش متاثر کرنے کی کوششوں کا دعویٰ کیا ہے۔
لاہور میں غیر ملکی خاتون ڈیانا سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے ضمانت پر رہا ملزم احمد تنویر کو سیشن کورٹ سے حراست میں لے لیا۔
ملزم کی عبوری ضمانت پر سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ احمد تنویر تفتیش میں شامل نہیں ہو رہا۔ اس پر عدالت نے ہدایت کی کہ ملزم کو کمرہ عدالت میں ہی تفتیش میں شامل کیا جائے۔
دورانِ سماعت ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ خاتون ڈیانا اپنے بیان میں واضح کر چکی ہیں کہ احمد تنویر وہ شخص نہیں جس کے خلاف انہوں نے الزام عائد کیا تھا۔ عدالت نے ملزم کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کردی۔
احاطہ عدالت میں پولیس اور ملزم کے ساتھیوں کے درمیان تلخ کلامی
سماعت کے بعد احاطہ عدالت میں پولیس اہلکاروں اور ملزم کے ساتھیوں کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے ملزم کو حراست میں لینے کی کوشش کی، جس کے دوران دونوں جانب سے ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
پولیس نے ملزم کے بعض ساتھیوں کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔ واقعے کے دوران پیش آنے والی کشیدگی نے مقدمے کی سماعت کے بعد صورتحال کو مزید حساس بنا دیا۔
ڈیانا کا نیا ویڈیو بیان، احمد تنویر کو بے گناہ قرار دے دیا
دوسری جانب متاثرہ خاتون ڈیانا نے اپنے نئے ویڈیو بیان اور سفارت خانے کے ذریعے بھیجی گئی دستاویز میں احمد تنویر کو بے گناہ قرار دیا ہے۔
خاتون کے مطابق احمد تنویر کا ان کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپنا ابتدائی بیان انہوں نے دباؤ میں آکر دیا تھا۔
ڈیانا کا کہنا تھا کہ وہ عدالت میں پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرانا چاہتی تھیں، تاہم انہیں بتایا گیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور انہیں زبردستی پاکستان سے بھیج دیا گیا۔
خاتون نے مزید کہا کہ وہ ملزمان محسن اور عزیر کو بھی معاف کرتی ہیں اور معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتیں۔
تاہم، خاتون کے نئے بیان اور پہلے سے عدالت میں ریکارڈ شدہ بیان کے درمیان فرق کی قانونی اہمیت کا تعین متعلقہ عدالتی کارروائی اور شواہد کی روشنی میں ہی کیا جا سکتا ہے۔
غیر ملکی خواتین کیس میں کسی کو رعایت نہیں ملے گی، قانون سب کے لیے برابر ہے: سپیکر پنجاب اسمبلی
پولیس کا مؤقف، سوشل میڈیا پر تفتیش متاثر کرنے کی کوشش کا دعویٰ
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر متاثرہ خاتون کے بیانات ریکارڈ کروا کر مقدمے کی تفتیش کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق خاتون کا بیان ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت پہلے ہی عدالت میں ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔ دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہونے والا بیان فوجداری مقدمات میں اہم قانونی حیثیت رکھتا ہے، تاہم اس کی اہمیت کا تعین دیگر شواہد اور مقدمے کے مجموعی حالات کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
مقدمے میں مزید پیش رفت کا انتظار
اس کیس میں ایک طرف ڈیانا کا نیا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے احمد تنویر کو بے گناہ قرار دیا، جبکہ دوسری جانب پولیس نے تفتیش میں تعاون نہ کرنے اور سوشل میڈیا کے ذریعے کارروائی متاثر کرنے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
عدالت نے احمد تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کردی ہے۔ مقدمے میں آئندہ پیش رفت اس بات پر منحصر ہوگی کہ تفتیش کے دوران کون سے شواہد سامنے آتے ہیں اور عدالت ان کا جائزہ کس طرح لیتی ہے۔ فی الحال الزامات، فریقین کے بیانات اور تفتیشی مؤقف کو حتمی عدالتی فیصلے سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
