امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان 2025 کی جنگ رکوانے کے لیے دونوں ممالک کو تجارت بند کرنے اور بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے جنگ کے دوران 11 طیارے گرائے جانے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دنیا بھر میں جنگیں رکوانا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان 2025 میں ہونے والی فوجی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے جنگ رکوانے میں اپنے کردار کا دعویٰ کیا ہے۔ فلوریڈا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے دونوں جوہری طاقتوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ نہ روکی گئی تو امریکا ان کے ساتھ تجارت روک سکتا ہے اور بھاری ٹیرف عائد کرسکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق، پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑائی کے دوران 11 طیارے گرائے گئے تھے۔ تاہم، ان کے اس بیان میں طیاروں کی شناخت، تعلق یا نقصان کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔ اس لیے اس تعداد کو امریکی صدر کے دعوے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
ٹرمپ کا جنگیں رکوانے اور نوبیل انعام سے متعلق مؤقف
امریکی صدر نے خطاب میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے دنیا بھر میں آٹھ جنگیں رکوانے میں کردار ادا کیا، لیکن اس کے باوجود انہیں نوبیل امن انعام نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بقول ان آٹھ میں سے پانچ تنازعات میں ٹیرف اور تجارتی دباؤ کو بطور ذریعہ استعمال کیا گیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کو بھی یہی پیغام دیا گیا تھا کہ اگر لڑائی جاری رہی تو انہیں امریکی تجارت اور بھاری محصولات کے حوالے سے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگیں رکوانا ان کے لیے اعزاز ہے اور ان کے خیال میں ان کوششوں میں اقوام متحدہ نے کوئی مدد نہیں کی۔
پاک بھارت جنگ تجارت کے ذریعے رکائی، سات بھارتی نئے طیارے گرائے جاچکے تھے
پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی فوجی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا۔ ٹرمپ متعدد بار اس پیش رفت کا سہرا اپنے سر باندھ چکے ہیں، تاہم ان کے کردار اور جنگ بندی میں امریکی دباؤ کی اہمیت سے متعلق دعووں کو دیگر متعلقہ فریقوں کے بیانات اور دستیاب شواہد کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔
ایران کے خلاف ایک اور آپریشن کا امکان
ٹرمپ نے خطاب میں ایران سے متعلق بھی اہم بیانات دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف ایک اور آپریشن کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایسا اقدام کب اور کن حالات میں کیا جاسکتا ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ جنگ ختم کردی جائے یا ایران کو مزید کمزور ہونے دیا جائے۔
ٹرمپ کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی حکمت عملی اور آئندہ ممکنہ اقدامات ان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ تاہم، کسی نئے فوجی آپریشن کے حوالے سے حتمی فیصلے یا ٹائم لائن کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
کیوبا سے متعلق بھی ٹرمپ کا اعلان
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے معاملے سے نمٹنے کے بعد کیوبا سے متعلق اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھیجا جائے گا۔
ٹرمپ نے اس حوالے سے مجوزہ معاہدے کی شرائط یا ممکنہ اقدامات کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پر دعویٰ
ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس اہم بحری گزرگاہ سے تیل کی برآمدات جاری ہیں اور امریکا اپنی مرضی کے مطابق وہاں سے تیل حاصل کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے اس وقت جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل برآمد کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس دعوے کی حمایت میں انہوں نے خطاب کے دوران کوئی اعداد و شمار یا تفصیلی وضاحت پیش نہیں کی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، جہاں پیدا ہونے والی کشیدگی بین الاقوامی تیل کی منڈی اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کرسکتی ہے۔ ٹرمپ کے تازہ بیانات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے دعوے کے ساتھ ایران، کیوبا اور عالمی تیل کی ترسیل سے متعلق امریکی مؤقف بھی نمایاں رہا۔
