کراچی میں پروٹیکٹر کلیئرنس کے نام پر مبینہ رشوت ستانی کا انکشاف، ایف آئی اے کی تحقیقات شروع

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی میں بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے شہریوں کی پروٹیکٹر کلیئرنس کے عمل میں مبینہ رشوت ستانی، غیر قانونی رقوم کی وصولی اور بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آگیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے شہریوں کی شکایات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ مختلف ممالک کے لیے مقررہ فیس کے علاوہ اضافی رقم وصول کیے جانے کے الزامات کی جانچ کی جا رہی ہے۔

latest urdu news

چار شہریوں کی شکایت پر تحقیقات شروع

ذرائع کے مطابق بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کراچی میں پروٹیکٹر کلیئرنس کے عمل سے متعلق چار شہریوں نے شکایت درج کرائی۔ شکایت کنندگان احمد مختار، محمد نوید، اسد صابر اور احد حسین نے الزام عائد کیا کہ ایجنٹ ندیم آرائیں نے پروٹیکٹر کلیئرنس کے سلسلے میں ان سے مجموعی طور پر 76 ہزار 400 روپے وصول کیے۔

شکایات موصول ہونے کے بعد ایف آئی اے امیگریشن کی ٹاسک ٹیم نے ابتدائی جانچ پڑتال کی۔ اس کے بعد معاملہ مزید کارروائی اور تحقیقات کے لیے ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی کو بھجوا دیا گیا۔

مختلف ممالک کے لیے اضافی رقوم وصول کرنے کا الزام

الزامات کی جانچ کے لیے ایف آئی اے کی ٹیم نے شکایت کنندگان کے ہمراہ کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 میں واقع بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے دفتر کا دورہ کیا۔ شہریوں کی نشاندہی پر بیورو کے سابق ملازم ندیم احمد سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔

خبر کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران ندیم احمد نے پروٹیکٹر کلیئرنس کے لیے مبینہ طور پر اضافی رقوم وصول کرنے اور انہیں تقسیم کرنے کے طریقہ کار سے متعلق معلومات فراہم کیں۔

ڈنکی لگانے والوں نے غیر قانونی سفر کے راستے تبدیل کرلیے: ڈی جی ایف آئی اے

ذرائع کے مطابق الزام ہے کہ مکمل دستاویزات ہونے کے باوجود مقررہ فیس کے علاوہ مختلف ممالک کے لیے الگ الگ اضافی رقم وصول کی جاتی ہے۔ مبینہ طور پر افریقی ممالک کے لیے 20 ہزار روپے، کینیڈا اور یورپ کے لیے 10 ہزار روپے، جبکہ خلیجی ممالک کے لیے 4 ہزار روپے لیے جاتے ہیں۔

سرکاری اور نجی اہلکاروں کے ملوث ہونے کا شبہ

رپورٹ کے مطابق ابتدائی بیان میں یہ الزام بھی سامنے آیا کہ مبینہ طور پر اضافی رقوم وصول کرنے کے نظام میں نجی ایجنٹوں کے ساتھ سرکاری اہلکار بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس نظام سے منسلک افراد اعلیٰ حکام کو ہفتہ وار بنیادوں پر لاکھوں روپے فراہم کرتے ہیں، جبکہ بعض ادائیگیاں مبینہ طور پر ڈالرز میں بھی کی جاتی ہیں۔

تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ ایف آئی اے حکام متعلقہ ریکارڈ کی جانچ اور الزامات کی چھان بین کر رہے ہیں تاکہ مبینہ غیر قانونی وصولیوں اور رقم کی تقسیم سے متعلق حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

ایف آئی اے کی تحقیقات اہمیت اختیار کر گئیں

پروٹیکٹر کلیئرنس بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے پاکستانی شہریوں کے عمل کا اہم حصہ ہے۔ اس عمل میں مبینہ غیر قانونی وصولیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد تحقیقات کی اہمیت بڑھ گئی ہے، کیونکہ ایسے معاملات بیرون ملک روزگار کے خواہش مند افراد پر اضافی مالی بوجھ ڈال سکتے ہیں۔

تحقیقات کے نتائج اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ شکایات میں لگائے گئے الزامات کس حد تک درست ہیں اور آیا اس معاملے میں کسی سرکاری یا نجی اہلکار کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں