کراچی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے خاتون کو مبینہ طور پر شادی کا جھانسہ دے کر اس کی نجی تصاویر اور ویڈیوز بنانے، ہراساں کرنے اور بلیک میل کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم کو گلستانِ جوہر کے علاقے سے حراست میں لیا گیا، جبکہ اس کے مبینہ طریقۂ واردات کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
خاتون کی شکایت پر کارروائی
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی زون کے اعلامیے کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت شعیب نواز آفریدی کے نام سے ہوئی ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے ایک خاتون کو اپنے اعتماد میں لے کر اس سے دوستی قائم کی اور بعد ازاں شادی کا جھانسہ دے کر اس کی نجی اور نازیبا تصاویر اور ویڈیوز بنائیں۔
متاثرہ خاتون نے این سی سی آئی اے کراچی میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں اس نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے ملزم سے ایک گاڑی کرائے پر حاصل کی تھی۔ اسی دوران ملزم نے مبینہ طور پر اس سے رابطہ بڑھایا، اعتماد حاصل کیا اور شادی کی یقین دہانی کرا کے اس کی نجی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں۔
شکایت کے مطابق ملزم بعد میں انہی تصاویر اور ویڈیوز کو استعمال کرتے ہوئے خاتون کو مسلسل ہراساں اور بلیک میل کرتا رہا۔ خاتون کی درخواست پر سائبر کرائم حکام نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں اور کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
سائبر کرائم ایجنسی میں مالی فراڈ کی 3 ہزار سے زائد شکایات، صرف 26 ایف آئی آر درج
کرائے پر گاڑیاں فراہم کرنے کی آڑ میں رابطوں کا الزام
این سی سی آئی اے کی ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم کے مبینہ طریقۂ واردات سے متعلق یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ وہ خواتین کو کرائے پر گاڑیاں فراہم کرنے کی آڑ میں ان سے روابط قائم کرتا اور انہیں اپنے اعتماد میں لیتا تھا۔ الزام ہے کہ بعد ازاں ان کی نجی تصاویر اور ویڈیوز کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
تاہم، یہ الزامات ابتدائی معلومات اور شکایت پر مبنی ہیں۔ ان کی مزید تصدیق کے لیے تفتیش جاری ہے، جبکہ ملزم کے خلاف الزامات کا حتمی تعین قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔
سائبر بلیک میلنگ کے واقعات میں احتیاط کیوں ضروری ہے؟
نجی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ متاثرہ افراد کی ذاتی زندگی، ذہنی سکون اور سماجی تعلقات کو متاثر کرسکتی ہے۔ ایسے معاملات میں متاثرہ افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ دھمکیوں کے دباؤ میں آکر فوری طور پر رقم ادا کرنے یا مزید نجی مواد فراہم کرنے سے گریز کریں۔
اگر کسی شخص کو تصاویر یا ویڈیوز کے ذریعے ہراساں یا بلیک میل کیا جارہا ہو تو اسے دستیاب پیغامات، اسکرین شاٹس اور دیگر متعلقہ شواہد محفوظ رکھنے چاہییں اور متعلقہ سائبر کرائم حکام کو شکایت درج کرانی چاہیے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق کراچی میں گرفتار کیے گئے ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔ تحقیقات کے دوران اس کے مبینہ طریقۂ واردات اور دیگر ممکنہ متاثرین سے متعلق تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔
