دیر کالونی اسکول حادثہ: نجی اسکولوں کے قوانین میں بڑی تبدیلیوں کی سفارش

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے بچوں اور استاد کی اموات کے بعد پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے قانون میں ترامیم تجویز کردیں، غیرمحفوظ عمارتوں کو بند کرنے اور رجسٹریشن کے لیے مختلف اداروں کے این او سی لازمی قرار دینے کی سفارش بھی کردی گئی۔

latest urdu news

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے کے بعد خیبر پختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (پی ایس آر اے) نے نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن اور عمارتوں کی حفاظت سے متعلق قوانین میں تبدیلیوں کی سفارش کی ہے۔

اتھارٹی نے اس واقعے کی ابتدائی رپورٹ گورنر خیبر پختونخوا کو جمع کرا دی ہے، جس میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کو محفوظ بنانے، رجسٹریشن کے طریقہ کار کو سخت کرنے اور خلاف ورزیوں پر کارروائی کے اختیارات بڑھانے سے متعلق تجاویز شامل ہیں۔

غیرمحفوظ عمارتوں کے خلاف کارروائی کی سفارش

پی ایس آر اے نے سفارش کی ہے کہ سنگین قانونی خلاف ورزیوں یا عمارت کے غیرمحفوظ ہونے کی صورت میں اسکول بند کرنے کے اختیارات ریگولیٹری اتھارٹی کو دیے جائیں۔

اس تجویز کا مقصد ایسے نجی تعلیمی اداروں کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن بنانا ہے جہاں بچوں اور عملے کی جان کو خطرات لاحق ہوں۔ اسکول کی عمارت کی حفاظت تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے، کیونکہ طلبہ روزانہ کئی گھنٹے ان عمارتوں میں گزارتے ہیں۔

اگر یہ سفارش منظور ہو جاتی ہے تو اتھارٹی کو سنگین خلاف ورزیوں کی صورت میں اسکول بند کرنے کے لیے واضح قانونی اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ فی الحال ایک سفارش ہے، قانون میں ترمیم یا اس کے نفاذ کا حتمی فیصلہ نہیں۔

رجسٹریشن کے لیے متعلقہ اداروں کا این او سی لازمی قرار دینے کی تجویز

ریگولیٹری اتھارٹی نے نجی اسکولوں کی رجسٹریشن کے لیے متعلقہ اداروں کے عدم اعتراض کے سرٹیفکیٹ (این او سی) کو لازمی قرار دینے کی سفارش بھی کی ہے۔

اس تجویز کے تحت ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے)، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے این او سی حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ اس اقدام سے اسکولوں کی عمارتوں اور ان کے محل وقوع سے متعلق ضروری امور کی جانچ پڑتال کو رجسٹریشن کے عمل کا حصہ بنایا جا سکے گا۔

سیلابی علاقوں کے اسکولوں کے لیے خصوصی شرط

پی ایس آر اے نے سیلاب سے متاثر ہونے کے خطرے والے علاقوں میں قائم نجی اسکولوں کی رجسٹریشن کے لیے محکمہ آبپاشی کا این او سی بھی لازمی قرار دینے کی سفارش کی ہے۔

پشاور اسکول واقعہ: شہداء کے لواحقین میں 2 کروڑ 10 لاکھ روپے کے امدادی چیک تقسیم

اس تجویز کا مقصد ایسے مقامات پر اسکولوں کے قیام یا ان کی رجسٹریشن سے پہلے متعلقہ خطرات کا جائزہ لینا ہے، جہاں سیلابی صورتحال عمارت اور طلبہ کی حفاظت کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔

اسکولوں کی عمارتوں کا تکنیکی معائنہ کرانے کی تجویز

اتھارٹی نے نجی اسکولوں کی عمارتوں کا تکنیکی جائزہ محکمہ مواصلات و تعمیرات یا متعلقہ انجینئرنگ اداروں سے کرانے کی سفارش بھی کی ہے۔

تکنیکی معائنے کے ذریعے عمارت کی مضبوطی اور حفاظت سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ اس سے ممکنہ خطرات کی بروقت شناخت اور ضروری مرمت یا حفاظتی اقدامات کے لیے مدد مل سکتی ہے۔

دیر کالونی کا واقعہ قانون سازی کی بحث کا مرکز

دیر کالونی میں 15 اکتوبر کو پیش آنے والے حادثے نے نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھائے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور ایک استاد جاں بحق ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد پی ایس آر اے کی سفارشات میں رجسٹریشن کے ضوابط سخت کرنے، عمارتوں کی تکنیکی جانچ اور غیرمحفوظ اسکولوں کے خلاف کارروائی کے اختیارات بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے۔

اب ان تجاویز پر متعلقہ حکام کے فیصلے اہم ہوں گے۔ قانون میں ترامیم منظور اور نافذ ہونے کی صورت میں خیبر پختونخوا کے نجی اسکولوں کی رجسٹریشن اور عمارتوں کی حفاظت سے متعلق طریقہ کار میں تبدیلی آسکتی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں