ہزاروں سال پرانے کتبے سے گمشدہ مصری شہر کے ممکنہ مقام کا سراغ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

شمالی صحرائے سینائی میں 3 ہزار 200 سال پرانے کتبے اور قدیم مندر کے آثار کی دریافت نے صدیوں سے گمشدہ مصری شہر میسان کے ممکنہ مقام کی جانب توجہ مبذول کرا دی۔

latest urdu news

مصر میں ماہرین آثارِ قدیمہ نے ایک ایسی دریافت کی ہے جس نے ہزاروں سال قبل آباد ایک گمشدہ شہر کے ممکنہ مقام کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ شمالی صحرائے سینائی کے قریب واقع قدیم مقام Tell Abu Seifi سے ملنے والے ایک تقریباً 3 ہزار 200 سال پرانے کتبے میں مصری فرعون رعمیس دوم کا حوالہ موجود ہے، جسے ماہرین اس علاقے کی قدیم تاریخ کے حوالے سے اہم قرار دے رہے ہیں۔

مصری وزارتِ سیاحت و نوادرات کے مطابق تحقیقی ٹیم نے اسی مقام پر ایک قدیم مندر کے باقیات بھی دریافت کیے ہیں۔ اگرچہ مندر کا بیشتر حصہ وقت گزرنے کے ساتھ تباہ ہوچکا ہے، تاہم کتبے اور دیگر آثار کی موجودگی نے ماہرین کو یہ امکان ظاہر کرنے پر آمادہ کیا ہے کہ Tell Abu Seifi ہی قدیم مصری شہر میسان کا ممکنہ مقام ہوسکتا ہے۔

کتبے میں رعمیس دوم کا حوالہ

دریافت ہونے والے کتبے میں رعمیس دوم کا ذکر موجود ہے۔ رعمیس دوم مصر کے طاقتور فرعونوں میں شمار ہوتا ہے اور اس نے تقریباً 1279 سے 1213 قبل مسیح تک مصر پر حکومت کی۔

کتبے میں اس دور سے متعلق مذہبی حوالہ بھی ملتا ہے، جس میں قدیم مصری دیوتا حورس کو میسان شہر کا مالک قرار دیا گیا ہے۔ یہی حوالہ اس دریافت کو مزید اہم بنا دیتا ہے، کیونکہ اس سے ممکنہ طور پر اس مقام اور قدیم شہر کے درمیان تعلق قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ صرف ایک کتبے کی بنیاد پر اس مقام کو حتمی طور پر میسان قرار نہیں دیا جاسکتا اور اس حوالے سے مزید شواہد درکار ہوں گے۔

قدیم مندر نے تحقیق کو نئی سمت دے دی

مصری حکام کے مطابق Tell Abu Seifi سے ملنے والے مندر کے آثار بھی اس تحقیق میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے مندر تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے، جس کے باعث اس کی تعمیر، استعمال اور اس سے وابستہ تاریخی شخصیات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنا مشکل ہے۔

اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ کتبے، مندر کے آثار اور علاقے سے ملنے والی دیگر اشیا کو ایک ساتھ دیکھنے سے اس مقام کی تاریخی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

اگر مزید تحقیق سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ Tell Abu Seifi ہی قدیم میسان شہر تھا تو یہ دریافت قدیم مصر کے شمال مشرقی علاقوں میں آبادی، تجارت اور فوجی سرگرمیوں کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرسکتی ہے۔

اہرامِ مصر کی تعمیر کا راز کھلنے لگا؟ نئی دریافت نے ماہرین کو ممکنہ جواب دے دیا

علاقے سے پہلے بھی قدیم نوادرات مل چکے ہیں

Tell Abu Seifi سے ماضی میں بھی مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والی اہم اشیا دریافت ہوچکی ہیں۔ ان میں کانسی کی ایک مہر بھی شامل ہے جو تقریباً 304 سے 30 قبل مسیح کے درمیان کے دور سے تعلق رکھتی ہے۔

اسی طرح اس علاقے سے اسی عہد سے منسوب تابوت اور ان پر کندہ تحریری شواہد بھی دریافت کیے گئے ہیں۔ ان آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علاقہ مختلف ادوار میں انسانی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔

Tell Abu Seifi ایک قدیم شاہراہ کے قریب واقع ہے جو مشرقی نیل طاس کو دوسرے علاقوں سے ملاتی تھی۔ اس جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے بھی ماہرین کے نزدیک یہ مقام قدیم مصر کے فوجی اور تجارتی راستوں کے حوالے سے اہم ہوسکتا ہے۔

حتمی شناخت کے لیے مزید شواہد درکار

مصری وزارتِ سیاحت و نوادرات نے Tell Abu Seifi کو ممکنہ گمشدہ شہر میسان کا مقام قرار دیتے ہوئے مزید تحقیق جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق فی الحال اسے یقینی طور پر میسان کہنا قبل از وقت ہوگا۔

تحقیقات کے دوران کتبے، مندر کے باقیات، ماضی میں ملنے والی مہریں، تابوت اور دیگر آثار کا باہمی تقابل کیا جائے گا تاکہ اس مقام کی شناخت کے بارے میں زیادہ مضبوط شواہد حاصل کیے جاسکیں۔

یہ بھی واضح نہیں کہ اگر Tell Abu Seifi ہی میسان شہر تھا تو اس کی بنیاد کب رکھی گئی، شہر کا رقبہ کتنا تھا اور اس میں کتنے لوگ آباد تھے۔ تاہم نئی دریافت نے اس گمشدہ شہر کے ممکنہ مقام کی تلاش میں ایک اہم پیش رفت ضرور کی ہے، جس سے قدیم مصر کی تاریخ کے ایک کم معلوم باب پر مزید روشنی پڑنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter