امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز پر واضح برتری حاصل کرلی ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو ایوان نمائندگان میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس 190 نشستوں پر آگے ہیں جبکہ ریپبلکنز کو 110 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اہم انتخابی مقابلوں کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹ امیدواروں کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے، جبکہ ریپبلکن امیدوار متعدد نشستوں پر پیچھے ہیں۔
435 رکنی ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 218 نشستیں درکار ہیں۔ ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس کو 190 اور ریپبلکنز کو 110 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔
سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس کو سبقت
امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج میں بھی ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے۔ موصولہ نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس 17 نشستوں پر آگے ہیں، جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد 51 ہوگئی ہے، جبکہ ریپبلکنز 8 نشستوں پر برتری کے بعد 39 ارکان تک پہنچ گئے ہیں۔
امریکی سینیٹ 100 ارکان پر مشتمل ہے اور ایوان میں سادہ اکثریت کے لیے 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
انتخابی نتائج مکمل ہونے کے بعد واضح ہوگا کہ دونوں ایوانوں میں کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوتی ہے اور صدر ٹرمپ کو کانگریس میں کس نوعیت کے سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ کا انتخابی نتائج پر ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابی نتائج تسلیم کریں گے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کریں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ممکن ہے دونوں جماعتیں کسی معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔
امریکا اور اسرائیل کا مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کا منصوبہ، امریکی اخبار کا دعویٰ
انتخابی نتائج میں ڈیموکریٹس کی برتری کی صورت میں کانگریس کا کنٹرول تبدیل ہونے کا امکان ہے، جس سے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کے حوالے سے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
تین امریکی خلابازوں نے خلا سے ووٹ کاسٹ کیا
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایک منفرد پیش رفت بھی سامنے آئی، جب 3 امریکی خلابازوں نے خلا سے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
ان خلابازوں انیل، لیوک اور جیسیکا نے ناسا کے خلائی اسٹیشن سے الیکٹرانک ووٹ ہیوسٹن کے خلائی مرکز کو بھیجے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹ ڈالنے کا حق خلا میں رہتے ہوئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
امریکی ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق پولنگ کا آغاز صبح 5 بجے ہوا، جبکہ نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا میں پولنگ صبح 6 بجے شروع ہوئی۔
مڈٹرم انتخابات میں مسلم امیدوار بھی میدان میں
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلم امیدواروں کی بھی نمایاں موجودگی ہے۔ مختلف ریاستوں میں مسلم امیدواروں کو سیاسی حریفوں کا سامنا ہے، جبکہ بعض حلقوں میں ایک ہی جماعت کے امیدوار بھی آمنے سامنے ہیں۔
مشی گن سے فلسطینی نژاد امریکی رکن کانگریس رشیدہ طلیب ایک بار پھر انتخابی میدان میں ہیں، جہاں ان کا مقابلہ 4 امیدواروں سے ہے۔
اسی طرح کیلیفورنیا میں عائشہ وہاب کا مقابلہ اپنی ہی جماعت کی امیدوار میلیسا ہرنینڈز سے ہے۔ دوسری جانب رشیدہ طلیب کے مقابلے میں ریپبلکن امیدوار جیمز ہوپر سمیت 3 دیگر جماعتوں کے امیدوار بھی موجود ہیں۔
امریکی سیاست میں مسلم امیدواروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے تناظر میں ان انتخابی مقابلوں کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ تاہم حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں جماعتوں کی پوزیشن واضح ہوسکے گی۔
