لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (3 ایم پی او) کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق انہیں بعد ازاں کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس پیش رفت کی خبر 20 ستمبر 2026 کو سامنے آئی۔
علیمہ خان کو گھر سے نکلتے ہوئے حراست میں لینے کا دعویٰ
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق علیمہ خان لاہور کے اپر مال میں واقع اپنے گھر سے جم جانے کے لیے نکلی تھیں کہ انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لٹن روڈ پولیس نے انہیں تحویل میں لیا، جبکہ ان کی گاڑی پولیس اسٹیشن میں موجود ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق علیمہ خان کو بعد میں کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔ تاہم، ابتدائی اطلاعات میں حراست کی قانونی وجوہات اور 3 ایم پی او کے تحت جاری کیے گئے مخصوص حکم کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
بیرسٹر گوہر کا گرفتاری پر ردعمل
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ انہیں نورین نیازی نے فون پر علیمہ خان کی گرفتاری سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ اس کا مجوزہ مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا اور اس کا مقصد آئینی و سیاسی مطالبات کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتی۔ انہوں نے علیمہ خان کی گرفتاری یا نظر بندی پر اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے انہیں فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات سیاسی کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان
علیمہ خان کی حراست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی 20 ستمبر کو کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں فی الحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور سیاسی ماحول سرد ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان کا اظہارِ ناراضی، پارٹی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ
بیرسٹر گوہر کے مطابق پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی احتجاج کے دوران قانون کی خلاف ورزی نہیں کرے گی اور سڑکیں بند کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔
احتجاج سے قبل سیاسی کشیدگی میں اضافہ
پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد مارچ کے اعلان اور حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کے پس منظر میں علیمہ خان کی حراست سیاسی طور پر اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ تاہم، حراست کے قانونی جواز، اس کی مدت اور اس کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ حکام یا عدالتی کارروائی کے ذریعے سامنے آ سکتی ہیں۔
دوسری جانب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی اختلافات کے ساتھ ساتھ احتجاج اور مارچ کے حوالے سے انتظامی و سکیورٹی اقدامات بھی زیر بحث ہیں۔ اس صورتحال میں آئندہ دنوں کے دوران دونوں جانب سے مزید بیانات اور اقدامات متوقع ہیں۔
