پاکستان کرکٹ میں حالیہ فیصلوں اور ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیوں پرسابق کپتان شاہد آفریدی اور شعیب ملک نے سوالات اٹھا دیے۔
قومی کرکٹ ٹیم کےسابق کپتان شاہد آفریدی نےکہاکہ پاکستان کرکٹ میں حالیہ فیصلےسمجھ سےباہر ہیں، متبادل کھلاڑیوں کا انتخاب بھی سمجھ سے بالاتر ہے،انگلینڈ میں ٹیسٹ اسکواڈ میں ٹی 20 کھلاڑیوں کو شامل کیاگیا،آخر یہ کیسی سوچ اور حکمتِ عملی ہے؟
سابق کپتان نےسوال اٹھایا کہ کوچ کوصرف پانچ ٹیسٹ میچز کے بعد کیوں ہٹایا گیا،جبکہ تجربہ کار سلیکٹرز کی جانب سے کیےگئے فیصلے بھی حیران کن ہیں۔
دوسری جانب شعیب ملک نے ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسکواڈ سے ڈراپ کیے گئے کھلاڑی اب بھی قومی کرکٹرز ہیں اور انہوں نے پاکستان کی خدمت کی ہے۔
شعیب ملک نے کہا کھلاڑیوں کوپہلی فلائٹ سے واپس بھیج دیا گیاجیسےالفاظ بےعزتی کے مترادف ہیں، احتساب ان لوگوں سےشروع ہوناچاہیےجنہوں نے سسٹم خراب کیا،بینچ پر بیٹھنے یا صرف 2،3 ٹیسٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں سے احتساب نہیں ہونا چاہیے۔
پی سی بی کا بڑا فیصلہ، قومی کھلاڑیوں کی میچ فیس میں اضافہ اور پی ایس ایل 12 بجٹ کی منظوری
مزیدکہاکہ احتساب دورہ مکمل ہونے کےبعد ہونا چاہیے،دورے کےدوران نہیں،ہرخراب میچ کے بعد کھلاڑیوں کوذہنی دباؤ سےنہیں گزرناچاہیے،کیونکہ مسلسل سوشل میڈیا دباؤ سےکھلاڑیوں کےذہنوں میں ناکامی کا خوف بیٹھ سکتا ہے۔
