برٹش کولمبیا کے پانیوں میں تیرتا جنگل پراسرار طور پر غائب

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کینیڈا کے شمالی برٹش کولمبیا میں واقع وِلسٹن ذخیرۂ آب میں درختوں اور پودوں پر مشتمل ایک بڑا تیرتا جزیرہ اچانک نمودار ہونے کے بعد پراسرار طور پر غائب ہوگیا، جس نے مقامی افراد اور سائنسی حلقوں کو حیران کردیا۔

latest urdu news

رپورٹ کے مطابق تقریباً 2 فٹبال میدانوں کے برابر رقبے کا یہ تیرتا جنگل ساحل سے الگ ہوکر وِلسٹن ذخیرۂ آب کے کھلے پانی میں پہنچ گیا تھا۔ مقامی کشتی بان کی جانب سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے پھیل گیا۔

برٹش کولمبیا ہائیڈرو کے مطابق مصنوعی سیاروں سے حاصل تصاویر میں 21 جولائی کو اس تیرتے جزیرے کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جس کا حجم تقریباً 70 بائی 140 میٹر تھا۔

برٹش کولمبیا ہائیڈرو کے ترجمان باب گیمر کے مطابق 2 ہفتے بعد حاصل کی گئی تازہ ترین مصنوعی سیاروں کی تصاویر میں تیرتے جزیرے کا کوئی نشان نہیں ملا۔ ادارے کے مطابق مزید تصاویر حاصل کی جائیں گی، تاہم موجودہ جائزے کے مطابق یہ جزیرہ ادارے کے آپریشنز کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھا۔

برٹش کولمبیا ہائیڈرو نے وضاحت کی کہ شدید برفباری اور بارش کے باعث پانی کی سطح ریکارڈ حد تک بلند ہوگئی تھی، جس کے نتیجے میں ساحل سے پودوں اور بہہ کر جمع ہونے والی لکڑی کا ایک بڑا حصہ اکھڑ کر پانی پر تیرنے لگا۔ تیز ہواؤں نے اسے کھلے پانی کی جانب دھکیل دیا، تاہم 5 اگست تک یہ دوبارہ نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

امریکا میں 36 لاکھ برس قدیم میگالوڈون شارک کا دانت دریافت

مقامی شہری راکی ایوری کو ایک کشتی بان نے تیرتے جنگل کی تصاویر اور ویڈیوز بھیجیں، جنہیں انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شیئر کیا۔ ایوری نے اسے اپنی زندگی کے حیران کن مناظر میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 40 سال گزارنے کے دوران انہوں نے ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

ماہرین کے مطابق پودوں اور درختوں سے بنی ایسی بڑی تیرتی چٹائیاں یا گچھے پانی کے ذریعے طویل فاصلوں تک منتقل ہوسکتے ہیں اور بعض اوقات ان کے ساتھ جانوروں اور پودوں کی مختلف اقسام بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتی ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter