لاہور ہائیکورٹ نے کم عمرلڑکی کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا رضامندی کے باوجود چائلڈ ابیوز قرار دیدیا۔
عدالت نے کم عمر شادی سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کم عمر لڑکی کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی محفوظ تحویل میں رکھنے کا حکم دے دیا۔ فیصلے کے مطابق 18 سال سے کم عمر سے شادی چائلڈ میرج ہے۔
جسٹس منور اقبال دوگل کی تحریر کردہ 11 صفحات پر مشتمل فیصلے کے مطابق کم عمر لڑکی کی رضامندی اسے بالغ شخص کے ساتھ رہنے کا قانونی حق نہیں دیتی، عدالت کم عمر لڑکی کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی محفوظ تحویل میں رکھنے کا حکم دیدیا۔ حنا اسلم کی مستقل تحویل کا فیصلہ گارڈین جج لاہور کرے گا۔
فیصلے کے مطابق چائلڈ میرج کے نتیجے میں کم عمر سے ازدواجی تعلق پر 5 سے 7 سال قید ہوسکتی ہے، چائلڈ ابیوز کے جرم پر کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی ہوگا۔ عدالت نے کم عمری کی شادی اور جعلی نکاح نامے کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔
عدالت نے تھانہ بی ڈویژن قصورکے ایس ایچ او کو قانون کے مطابق مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کردی، قرار دیا کہ کم عمری کی شادی کےالزام کی تحقیقات سےپولیس انکار نہیں کرسکتی۔
لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: نکاح کے بعد طے شدہ حقوق سے محرومی ناقابلِ قبول قرار
عدالت نے والدین یا مبینہ شوہر کو بچی کی براہ راست تحویل دینے سے گریز کیا، فیصلے کے مطابق بچی کی ملاقات والدین یا مبینہ شوہر سے صرف نگرانی میں کروائی جائے۔
حنا اسلم کی عمر نکاح کے وقت تقریباً 15 سال دو ماہ تھی، نادرا ریکارڈ کے مطابق حنا اسلم کی تاریخ پیدائش یکم مارچ 2011 ہے ، حنا اسلم کو مبینہ شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں۔ عدالت نےلڑکی کےوالد محمد اسلم کی درخواست پرفیصلہ جاری کیا۔
فیصلے کے مطابق اغوا کے مقدمے سے مختلف جرم کی صورت میں الگ ایف آئی آر درج ہوسکتی ہے، جسٹس آف پیس قصورکا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دے دیا، کہا پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 نے کم عمری کی شادی سے متعلق قانون تبدیل کردیا ہے۔
