پارلیمان میں مشترکہ اپوزیشن کے قیام پر اتفاق، مولانا فضل الرحمان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ میں مشترکہ پلیٹ فارم سے مؤثر کردار ادا کریں گی، حکومت کی امن و امان اور خارجہ پالیسی پر شدید تنقید

latest urdu news

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں مشترکہ اپوزیشن تشکیل دینے پر اتفاق کرلیا ہے، جس کا مقصد پارلیمانی سطح پر اپوزیشن کے کردار کو مؤثر بنانا اور مشترکہ مؤقف قوم کے سامنے پیش کرنا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجلاس میں شریک تمام جماعتوں کے نمائندگان کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ میں ایک مشترکہ اپوزیشن تشکیل دی جائے گی جو پارلیمانی فورم پر مؤثر اقدامات کرے گی اور اپوزیشن کا مؤقف عوام تک پہنچائے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے ملک میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو صوبوں میں حالات انتہائی خراب ہیں اور حکومتی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے صرف یقین دہانیاں کرائی جا رہی ہیں۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ مختلف اوقات میں متعدد آپریشنز کیے گئے، لیکن ان کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے دعوے کیے جاتے رہے، تاہم زمینی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آسکی۔

انہوں نے قبائلی علاقوں کے تاجروں کو درپیش مشکلات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مغربی سرحد کی بندش سے تجارت اور کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور مقامی تاجروں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

کشمیریوں کے صبر اور برداشت کو سلام پیش کرتا ہوں، مسئلے کے حل کے لیے مزید مہلت دی جائے: مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے سامنے حکومت کی جانب سے ایک ایسا بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

صوبوں کی نئی تشکیل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حالات میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے کوئی تیاری نہیں۔ ان کے بقول ملک میں موجود مسائل کو حل کیے بغیر صوبوں کی تقسیم کی بات کرنا مناسب نہیں۔

وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بات چیت کے لیے دونوں جانب سے آمادگی ضروری ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے 27 ستمبر کے احتجاج کو برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں شریک جماعتوں کے نمائندگان اب اپنی اپنی قیادت سے مزید مشاورت کریں گے، جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں کا اگلا اجلاس طلب کیا جائے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter