اداکار نے سوشل میڈیا پر وائرل کلپ کے تناظر میں کہا کہ مختصر اور ایڈٹ شدہ ویڈیوز اکثر اصل گفتگو سے ہٹ کر تاثر پیدا کرتی ہیں
کراچی: اداکار علی انصاری نے ٹی وی میزبان نادیہ خان کی جانب سے اداکارہ سجل علی کی ڈرامہ ’’زنجیرین‘‘ میں اداکاری پر کیے گئے تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پر جاری بحث پر اپنا مؤقف سامنے رکھ دیا۔
ایک انٹرویو میں علی انصاری سے نادیہ خان کے اس تبصرے کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں انہوں نے ڈرامے کی 18ویں قسط کے ایک منظر میں سجل علی کی اداکاری پر تنقید کی تھی۔
اس منظر میں سجل علی کا کردار خطرے سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے دھیمی آواز میں ’’کوئی ہے؟‘‘ پکارتا ہے۔ نادیہ خان نے پروگرام کے دوران اداکارہ کے اندازِ دوڑ کی نقل بھی کی، جس کی ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی۔
وائرل کلپ پر سوشل میڈیا صارفین کی آرا تقسیم ہوگئیں۔ بعض افراد نے نادیہ خان کے انداز کو محض مزاحیہ تبصرہ قرار دیا، جبکہ کچھ صارفین نے اسے اداکارہ کا مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔
علی انصاری نے کہا کہ انہوں نے خود وہ متعلقہ منظر نہیں دیکھا، تاہم سجل علی ان کے خاندان کا حصہ ہیں اور نادیہ خان سے بھی ان کی طویل عرصے سے شناسائی ہے۔ ان کے مطابق نادیہ خان بے ساختہ انداز میں گفتگو کرنے والی شخصیت ہیں اور ممکن ہے کہ پروگرام میں بھی انہوں نے بات اسی انداز میں کی ہو۔
سوشل میڈیا ٹرولنگ کے حوالے سے اداکار نے کہا کہ اکثر کسی پروگرام یا گفتگو کے مختصر اور ایڈٹ شدہ کلپ کو سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کیا جاتا ہے، جس سے اصل گفتگو کا درست مفہوم واضح نہیں رہتا اور پھر سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
اداکاری میری شناخت اور آزادی کا ذریعہ ہے، سجل علی
علی انصاری کا کہنا تھا کہ کسی ڈرامے یا اداکاری پر رائے دینا فطری عمل ہے اور ضروری نہیں کہ ہر شخص ناقد کی رائے سے اتفاق کرے۔ ان کے مطابق انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے وابستہ افراد کے لیے تنقید اور ٹرولنگ کا سامنا کرنا کام کا ایک حصہ بن چکا ہے۔
اداکار نے مزید کہا کہ وہ ذاتی طور پر تنقید اور منفی ردعمل کو بھی کسی حد تک مثبت سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں کسی فنکار پر ہونے والی تنقید اس بات کی علامت بھی ہوسکتی ہے کہ وہ لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے موجودہ رجحانات پر گفتگو کرتے ہوئے علی انصاری نے کہا کہ سب سے پہلے ڈراموں کے مواد میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ ناظرین ایک جیسے اور بار بار دہرائے جانے والے موضوعات سے اکتا چکے ہیں اور اب منفرد کہانیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ناظرین کو روایتی اور فارمولہ کہانیوں سے ہٹ کر مواد دیکھنے کا عادی بنا دیا ہے۔ پاکستانی ڈرامہ ساز بھی اپنی حدود میں رہتے ہوئے کہانی سنانے کے انداز میں جدت لاسکتے ہیں۔
علی انصاری کے مطابق صرف اچھی کہانی کافی نہیں بلکہ اس کی پیشکش، عکس بندی اور مجموعی بصری معیار بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنفین اور ہدایت کاروں کو بہتر انداز میں کہانی پیش کرنے پر توجہ دینی چاہیے جبکہ پروڈکشن ہاؤسز کو منفرد منصوبوں کے لیے زیادہ سرمایہ کاری اور بہتر بجٹ فراہم کرنا ہوگا۔
