اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ کشمیر کے عوام کے صبر، تحمل اور برداشت کو سلام پیش کرتے ہیں، جبکہ ان کے بقول یہ تحریک اب پورے کشمیر میں پھیل چکی ہے اور اس کے اثرات پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔
ویڈیو پیغام میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں جاری احتجاج کو دو ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق 5 جون 2026 کو حالات کشیدہ ہونے اور حکومت و کمیٹی کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے پر کمیٹی نے ایک بڑے وفد کے ذریعے ان سے تحریری طور پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے ان پر اعتماد کیا، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں، اور انہوں نے ثالثی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مولانا سعید یوسف خان اور سردار کامران اعظم خان کے ذریعے مسلسل رابطہ رکھا۔
حکومت عوامی رابطے سے گریزاں ہے، جلسے امن اور اتحاد کا پیغام دیتے ہیں: مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کمیٹی نے ان کی ثالثی کی کوششوں پر اعتماد کیا، تاہم حکومت نے اس عمل کو کوئی اہمیت نہیں دی۔
انہوں نے کشمیر ایکشن کمیٹی سے اپیل کی کہ موجودہ صورتحال میں کسی بڑے اقدام سے گریز کیا جائے، مسئلے کے حل کے لیے مزید مہلت دی جائے اور ایک اور موقع فراہم کیا جائے تاکہ مذاکرات کے ذریعے منصفانہ اور پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیری عوام نے شدید مشکلات اور قربانیوں کے باوجود جس صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے، اور وہ ان کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔
