کراچی: میر رضا علی خان کیس میں نئی پیش رفت، ہلاکت سے قبل کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے نوجوان میر رضا علی خان کی لاش ملنے کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہلاکت سے قبل کی مبینہ سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پر آ گئی ہے، جسے تفتیش کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

latest urdu news

ہلاکت سے قبل کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی

کراچی میں نوجوان میر رضا علی خان کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کے دوران ہلاکت سے قبل کی مبینہ سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے۔

فوٹیج کے مطابق میر رضا علی خان کو رات 10 بج کر 43 منٹ پر ایک دراز سے اسلحہ نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں وہ مبینہ طور پر اسلحہ اپنی گاڑی میں رکھتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔

تفتیشی حکام اس فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ واقعے سے قبل ہونے والی سرگرمیوں اور ان کے ممکنہ تعلق کا تعین کیا جا سکے۔

جائے وقوعہ کے قریب اکیلے جاتے ہوئے بھی نظر آئے

منظرِ عام پر آنے والی ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا علی خان کو صبح 4 بج کر 38 منٹ پر جائے وقوعہ سے کچھ فاصلے پر اکیلے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس کے بعد ان کے ساتھ کیا پیش آیا اور وہ کس طرح گلستانِ جوہر پہنچے۔ پولیس مختلف مقامات کی مزید سی سی ٹی وی ریکارڈنگ اور دیگر شواہد اکٹھے کر رہی ہے تاکہ واقعات کی مکمل کڑی جوڑی جا سکے۔

لاپتا ہونے کے دو روز بعد لاش ملی

یاد رہے کہ میر رضا علی خان 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتا ہوئے تھے۔ ان کی گمشدگی کے دو روز بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر سے برآمد ہوئی، جس کے بعد پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کیا۔

کراچی: زیرِ حراست خواجہ سرا پر مبینہ تشدد کے بعد بوٹ بیسن تھانے پر احتجاج، پتھراؤ، 3 افراد گرفتار

اس واقعے نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کی، جبکہ اہلِ خانہ نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات

پولیس حکام کے مطابق میر رضا علی خان کی لاش انتہائی تشویشناک حالت میں ملی تھی اور ابتدائی معائنے کے مطابق انہیں سینے میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔

حکام نے مزید بتایا کہ لاش برآمد ہونے سے ایک روز قبل میر رضا کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔ تفتیشی ادارے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اکاؤنٹس کس نے اور کن حالات میں بند کیے، اور آیا اس کا قتل سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری

پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز، ڈیجیٹل شواہد، فرانزک رپورٹس اور متعلقہ افراد کے بیانات کی مدد سے کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا گیا، جبکہ سامنے آنے والی ہر نئی معلومات کو شواہد کی روشنی میں جانچا جا رہا ہے۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجوہات اور ذمہ دار افراد کے بارے میں حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter