پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار کھوڑو نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ متنازع گفتگو کے ذریعے ملک کا سیاسی ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ سندھ کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تجویز کی مخالفت کی جائے گی۔
محسن نقوی کے بیان پر پیپلز پارٹی کا ردعمل
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پہلے صدرِ مملکت سے ملاقات کی اور اس کے بعد ایک متنازع بیان دیا، جس پر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایسے بیانات کے ذریعے ملک میں سیاسی کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نثار کھوڑو کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس کا مقصد سیاسی ماحول کو متاثر کرنا ہے۔
سندھ کی تقسیم کی مخالفت
نثار کھوڑو نے سندھ کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تقسیم کی بات کرنے والوں کو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق غیر ضروری بحث چھیڑی جا رہی ہے۔ ان کے بقول اگر ہر انتظامی یا سیاسی مطالبے کی بنیاد پر نئے صوبے بنائے جائیں تو پھر ملک میں متعدد نئے صوبے اور اسی تناسب سے نئے وزرائے اعلیٰ بھی درکار ہوں گے، جو مسائل کا حل نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے عوام اپنی وحدت اور صوبے کی جغرافیائی و انتظامی حیثیت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے۔
انسانی سمگلنگ کے خلاف اقدامات مؤثر، یورپ جانے کی غیر قانونی کوششوں میں 47 فیصد کمی: محسن نقوی
سعید غنی کا بھی مؤقف سامنے آگیا
دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے بھی نئے صوبوں کے معاملے پر پارٹی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ اگر سندھ کے عوام اور ان کے منتخب نمائندے نئے صوبوں کے قیام کے حق میں نہیں ہیں تو سندھ میں ایسے کسی اقدام کی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر صوبے کے عوام کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق اگر پنجاب اسمبلی نے نئے صوبے کے حق میں کوئی قرارداد منظور کی ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں اس حوالے سے سیاسی حمایت موجود ہے، لہٰذا اگر پنجاب کے عوام اور منتخب نمائندے ایسا چاہتے ہیں تو وہاں اس معاملے پر پیش رفت ہو سکتی ہے۔
نئے صوبوں کی بحث ایک سیاسی موضوع
پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کا معاملہ وقتاً فوقتاً سیاسی بحث کا حصہ بنتا رہا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس حوالے سے الگ الگ مؤقف رکھتی ہیں۔ بعض جماعتیں انتظامی بہتری کے لیے نئے صوبوں کی حمایت کرتی ہیں، جبکہ دیگر جماعتیں موجودہ صوبائی حدود میں تبدیلی کی مخالفت کرتی ہیں۔
تاہم، آئینی طور پر کسی بھی نئے صوبے کے قیام یا موجودہ صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے پارلیمانی اور آئینی طریقہ کار پر عمل درآمد ضروری ہوتا ہے۔ نثار کھوڑو اور سعید غنی کے حالیہ بیانات بھی اسی جاری سیاسی بحث کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جبکہ اس معاملے پر دیگر متعلقہ فریقین کا مؤقف بھی اہمیت رکھتا ہے۔
