روم: امریکا نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور 4 اگست سے اٹلی کے دارالحکومت روم میں شروع ہوگا، جس کا مقصد سرحدی کشیدگی میں کمی اور جنوبی لبنان کی سیکیورٹی صورتحال پر پیش رفت حاصل کرنا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مذاکرات امریکا کی ثالثی میں ہوں گے، جن میں اسرائیل اور لبنان کے اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔ اس سے قبل اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی بھی مذاکرات کی نئی تاریخوں کا اعلان کر چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران اسرائیل کے جنوبی لبنان میں قائم دو پائلٹ زونز سے مرحلہ وار انخلا کے منصوبے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے، جبکہ جنگ بندی کے موجودہ فریم ورک پر مؤثر عمل درآمد، سرحدی سلامتی اور آئندہ سفارتی اقدامات بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان موجودہ فریم ورک معاہدہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد تشکیل دیا گیا تھا، جس کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم کرنا، جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی کو یقینی بنانا، مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کی راہ ہموار کرنا ہے۔
لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں ایران نے فوجی آپریشن مکمل کرنے کا اعلان کر دیا
تجزیہ کاروں کے مطابق روم میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے میں امن کی کوششوں کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر دونوں فریق کسی نئے اتفاقِ رائے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو جنوبی لبنان میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہونے اور سرحدی کشیدگی میں نمایاں کمی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
