وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے صدر آصف علی زرداری کو سالگرہ کی مبارک باد دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی پنجاب قیادت اور لاہور میں جلسے کے فیصلے پر سخت تنقید کی، جبکہ پارٹی کی سیاسی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے۔
صدر زرداری کو سالگرہ کی مبارک باد
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو ان کی سالگرہ کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر شکر کریں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو مینارِ پاکستان پر جلسہ کرنے کی خفت سے بچا لیا گیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے صدر زرداری کی سالگرہ کے موقع پر لاہور میں جلسے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم ان کے مطابق بعد میں اس فیصلے پر نظرثانی کی گئی۔
لاہور میں جلسے کے فیصلے پر تنقید
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر خالی کرسیوں کے ساتھ جلسہ منعقد کیا جاتا تو یہ صدر زرداری کی توہین کے مترادف ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس شخص نے بھی پیپلز پارٹی کی قیادت کو لاہور میں جلسہ کرنے کا مشورہ دیا، اسے اپنی حکمت عملی پر جوابدہ ہونا چاہیے۔
مینارِ پاکستان جلسے کی اجازت نہ ملنے پر پیپلز پارٹی کا گورنر ہاؤس میں جلسے کا اعلان
پنجاب میں پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن پر تبصرہ
وزیر اطلاعات پنجاب نے دعویٰ کیا کہ گورنر ہاؤس پنجاب میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکا کی تعداد توقع سے کہیں کم تھی۔
ان کے مطابق تقریب کے لیے تقریباً دو ہزار کرسیاں لگائی گئی تھیں، جبکہ وہاں موجود افراد کی تعداد تقریباً 150 تھی۔ عظمیٰ بخاری نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو پنجاب کی سیاسی صورتحال کے بارے میں درست معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس کے باعث پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پنجاب کی قیادت پر تنقید
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی پنجاب قیادت اپنی جماعت کے تنظیمی معاملات کے بجائے پنجاب حکومت پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر پارٹی قیادت اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے پر توجہ دیتی تو آج پنجاب میں پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن مختلف ہوتی۔
سیاسی بیانات انتخابی ماحول کا حصہ
عظمیٰ بخاری کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مختلف سیاسی جماعتیں اپنی سرگرمیاں تیز کر رہی ہیں اور ایک دوسرے پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے بیان میں کیے گئے دعوے مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہیں، جبکہ اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اس خبر کے تناظر میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ سیاسی بیانات اور دعووں کی حقیقت کا تعین عوام اور متعلقہ ادارے دستیاب شواہد اور زمینی حقائق کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
