وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باسکٹ بال کے دو عظیم کھلاڑیوں کا موازنہ کرتے ہوئے لیبرون جیمز پر تنقید کی، جبکہ مائیکل جارڈن کو تاریخ کا بہترین باسکٹ بال کھلاڑی قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافی کے سوال پر ٹرمپ کا ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باسکٹ بال کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی لیبرون جیمز کو نسل پرست قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر ان پر تنقید کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران صحافی نے ٹرمپ سے لیبرون جیمز اور مائیکل جارڈن کے درمیان موازنہ کرنے سے متعلق سوال کیا، جس پر صدر ٹرمپ نے اپنا مؤقف پیش کیا۔
مائیکل جارڈن کو تاریخ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا
جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ مائیکل جارڈن ان کے دوست ہیں اور وہ اکثر ان کے ساتھ گولف بھی کھیلتے ہیں۔ ان کے مطابق جارڈن ہی باسکٹ بال کی تاریخ کے بہترین کھلاڑی ہیں۔
اسی گفتگو کے دوران ٹرمپ نے لیبرون جیمز کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے انہیں "نسل پرست” قرار دیا۔ تاہم انہوں نے اس موقع پر اپنے اس دعوے کی مزید وضاحت یا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
ٹرمپ کا دعویٰ: چین اور روس ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کریں گے، خلاف ورزی دونوں کے مفاد میں نہیں
ٹرمپ اور لیبرون جیمز کے درمیان اختلافات کی طویل تاریخ
یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور لیبرون جیمز کے درمیان لفظی محاذ آرائی سامنے آئی ہو۔ ماضی میں لیبرون جیمز متعدد مواقع پر ٹرمپ کی پالیسیوں اور بیانات پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں، خصوصاً نسلی مساوات، سماجی انصاف اور سیاسی معاملات پر دونوں کے مؤقف میں نمایاں اختلاف رہا ہے۔
لیبرون جیمز امریکا میں کھیلوں کے ساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی موضوعات پر بھی اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ بھی کئی بار ان کے بیانات کا عوامی سطح پر جواب دے چکے ہیں۔
کھیل اور سیاست کا ملاپ
حالیہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں کھیلوں کی شخصیات اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان عوامی بیانات اور تنقید کا سلسلہ وقتاً فوقتاً خبروں کا حصہ بنتا رہتا ہے۔
ٹرمپ کے تازہ ریمارکس پر تاحال لیبرون جیمز کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ماضی کے تناظر میں دونوں شخصیات کے درمیان اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، اور ان کے بیانات اکثر امریکی میڈیا اور سوشل میڈیا پر وسیع بحث کا موضوع بن جاتے ہیں۔
