وفاقی حکومت کا مجموعی قرض مئی 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 82 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ ایک سال کے دوران اس میں 5.9 کھرب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تازہ اعداد و شمار نے ملکی مالیاتی صورتحال اور قرضوں کے انتظام پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ قرضہ بلیٹن کے مطابق گزشتہ ایک سال میں حکومتی قرضوں میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا، جو اسی عرصے کے دوران اوسط 7 فیصد مہنگائی کی شرح سے بھی زیادہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون 2025 سے مئی 2026 تک وفاقی حکومت کے قرضوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی اخراجات اب بھی آمدن سے زیادہ ہیں۔
دوسری جانب آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں وزارتِ خزانہ کی مالی منصوبہ بندی پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قرضوں کی اصل رقم کی ادائیگی کے لیے 1.83 کھرب روپے کی غیر حقیقی بجٹ سازی کی گئی، جس کے نتیجے میں غیر ضروری اضافی اخراجات سامنے آئے۔
آڈٹ رپورٹ میں وزارتِ خزانہ کو قرضوں کی نگرانی اور مالیاتی کنٹرول کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے حقیقی مالی ضروریات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ مالیاتی رپورٹنگ مینول کے مطابق ہر ماہ تیار کی جانے والی "ڈیٹ اینڈ لاسز رپورٹ” بھی باقاعدگی سے مرتب نہیں کی جا رہی، حالانکہ یہ قومی قرضوں کی نگرانی کے لیے اہم دستاویز سمجھی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ کا ڈیٹ مینجمنٹ آفس گزشتہ چھ ماہ سے مستقل سربراہ سے محروم ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کی آسامی جنوری سے خالی ہے اور ادارہ عبوری انتظام کے تحت چل رہا ہے، جس پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ بھی تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔
پاکستانی شہری پر قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا، فی کس قرض 3 لاکھ 33 ہزار روپے سے تجاوز کر گیا
اعداد و شمار کے مطابق بیرونی قرض ایک سال میں 22.5 کھرب روپے سے بڑھ کر 23.8 کھرب روپے ہو گیا، جبکہ قلیل مدتی بیرونی قرض 201 ارب روپے سے بڑھ کر 2.7 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اس اضافے کی ایک وجہ قرضوں کی درجہ بندی میں تبدیلی بھی ہے۔
اسی طرح داخلی قرض بھی بڑھ کر 58.1 کھرب روپے تک جا پہنچا، جس میں ایک سال کے دوران 4.7 کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔ قلیل مدتی داخلی قرض 10.7 کھرب روپے جبکہ طویل مدتی داخلی قرض 47.3 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق قرضوں میں مسلسل اضافے کے باعث حکومت پر سود کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے، اور رواں مالی سال کے دوران صرف سود کی مد میں اخراجات 8 کھرب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
