سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل سے قبل ایک اہم سفارتی پیش رفت دیکھنے میں آئی، جہاں پاکستانی اور ایرانی وفود کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال، سفارتی کوششوں اور جاری مذاکرات کے تناظر میں مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پاکستانی اور ایرانی وفود کی ملاقات
اس اہم ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔
ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے، جبکہ دونوں وفود نے خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بات چیت کی۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔
امریکا اور پاکستان کے درمیان ملاقات
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے بھی ملاقات ہوئی۔ امریکی وفد میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی شامل تھے، جنہوں نے پاکستانی قیادت کے ساتھ مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا۔
یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جا رہی تھیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی اہم ملاقات
امریکی نائب صدر کا پاکستان کے کردار کا اعتراف
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ملاقات سے قبل ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے غیر رسمی گفتگو میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے پرجوش انداز میں کہا کہ “We love Pakistan”۔
ان کے اس بیان کو سفارتی حلقوں میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی کردار اور ثالثی کی کوششوں کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif and COAS & CDF Field Marshal Syed Asim Munir meeting with the Iranian delegation led by Speaker of the Parliament Mohammad Bagher Ghalibaf and Foreign Minister Abbas Araghchi at US-Iran technical level talks as a follow -up of Islamabad MoU… pic.twitter.com/ynAyqMezrw
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) June 21, 2026
خطے میں پاکستان کا سفارتی کردار
تجزیہ کاروں کے مطابق برگن اسٹاک میں ہونے والی یہ ملاقاتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران اور امریکا جیسے فریقین کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک اہم جہت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست پر بھی نمایاں ہوں گے، اور پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔
