ڈیجیٹل ٹیکس نظام سے عدم انضمام پر سخت کارروائی کی تجویز، ایف بی آر نے بھاری جرمانے تجویز کر دیے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے فنانس بل میں ٹیکس نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے متعدد نئی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ ان تجاویز کے تحت کاروباری اداروں کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنا لازمی قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اس عمل میں ناکامی یا خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانوں اور دیگر قانونی کارروائیوں کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

latest urdu news

ڈیجیٹل انٹیگریشن نہ کرنے پر جرمانے کی تجویز

فنانس بل کے مطابق ایسے کاروباری ادارے جو مقررہ مدت کے اندر اپنے نظام کو ایف بی آر کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے منسلک نہیں کریں گے، ان پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری لین دین کو ڈیجیٹل انداز میں دستاویزی شکل دینا اور ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔

بل میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ مقررہ وقت کے اندر انٹیگریشن نہ کرنے والے کاروباروں کو سیل کیا جا سکے گا۔ مزید برآں، اگر کوئی ادارہ مسلسل خلاف ورزی کا مرتکب پایا جاتا ہے تو اس پر 50 لاکھ روپے تک اضافی جرمانہ عائد کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

جعلی ٹیکس انوائسز کے خلاف سخت اقدامات

فنانس بل میں جعلی اور فرضی ٹیکس انوائسز کے استعمال کی روک تھام کے لیے بھی سخت تجاویز دی گئی ہیں۔ دستاویز کے مطابق اگر کوئی شخص یا ادارہ جعلی ٹیکس انوائس جاری کرتا ہے تو اس پر انوائس کی مکمل مالیت کے برابر جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ جعلی انوائسز کے ذریعے ٹیکس چوری اور غیر قانونی ٹیکس کریڈٹ کے حصول کی کوششوں سے قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے، اس لیے اس عمل کے خلاف سخت قانونی اقدامات ضروری ہیں۔

ایف بی آر کو محصولات کی وصولی میں 868 ارب روپے کی کمی کا سامنا، مالی دباؤ میں اضافہ

خریدار بھی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں

فنانس بل میں صرف جعلی انوائس جاری کرنے والوں ہی نہیں بلکہ ان سے فائدہ اٹھانے والے خریداروں کو بھی قانونی کارروائی کے دائرے میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس فراڈ کے پورے سلسلے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے تاکہ سپلائر اور خریدار دونوں اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے پورا کریں۔

ان پٹ اور آؤٹ پٹ ٹیکس میں فرق پر بھی جرمانہ

بل کے مطابق اگر کسی کاروبار کے ان پٹ ٹیکس اور آؤٹ پٹ ٹیکس کے اعداد و شمار میں ایسا فرق سامنے آتا ہے جو قانون کے مطابق درست ثابت نہ ہو سکے تو متعلقہ رقم پر 20 فیصد جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح اگر کسی شخص یا ادارے نے غلط بنیادوں پر حاصل کیا گیا ٹیکس کریڈٹ 60 دن کے اندر واپس نہ کیا تو اس پر بھی 20 فیصد اضافی جرمانہ لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد

ماہرین کے مطابق حکومت گزشتہ چند برسوں سے معیشت کو دستاویزی شکل دینے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور محصولات میں اضافے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکس نظام کو فروغ دے رہی ہے۔ فنانس بل میں شامل نئی تجاویز بھی اسی پالیسی کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔ تاہم ان تجاویز پر حتمی عملدرآمد پارلیمان سے منظوری کے بعد ہی ممکن ہوگا، جبکہ کاروباری حلقے ان مجوزہ اقدامات کے معاشی اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter